مسئلہ ۱: نکاح زائل ہونے یا شبہہ نکاح کے بعد عورت کا نکاح سے ممنوع ہونا اور ایک زمانہ تک انتظار کرنا عدت ہے۔(1)
مسئلہ ۲: نکاح زائل ہونے کے بعد اُسوقت عدت ہے کہ شوہر کا انتقال ہوا ہو یا خلوت صحیحہ ہوئی ہو۔ زانیہ کے ليے عدت نہیں اگرچہ حاملہ ہو اور یہ نکاح کر سکتی ہے مگر جس کے زنا سے حمل ہے اُس کے سوا دوسرے سے نکاح کرے تو جب تک بچہ پیدا نہ ہو وطی جائز نہیں۔ نکاح فاسد میں دخول سے قبل تفریق ہوئی تو عدت نہیں اور دخول کے بعد ہوئی تو ہے۔(2)(عامہ کتب)
مسئلہ ۳: جس عورت کامقام بند ہے اُس سے خلوت ہوئی تو طلاق کے بعد عدت نہیں۔ (3)(درمختار)
مسئلہ ۴: عورت کو طلاق دی، بائن یا رجعی یا کسی طرح نکاح فسخ (4)ہوگيا، اگرچہ یوں کہ شوہر کے بیٹے کا شہوت کے ساتھ بوسہ لیا اور اِن صورتوں میں دخول ہوچکا ہویا خلوت ہوئی ہو اور اس وقت حمل نہ ہو اور عورت کوحیض آتا ہے تو عدت پورے تین حیض ہے جبکہ عورت آزاد ہواور باندی ہو تو دو حیض اور اگر عورت ام ولد ہے اُس کے مولیٰ کا انتقال ہوگيا یا اُس نے آزاد کر دیا تو اس کی عدت بھی تین حیض ہے۔(5) (درمختار)
مسئلہ ۵: ان صورتوں میں اگر عورت کو حیض نہیں آتا ہے کہ ابھی ایسے سِن کو نہیں پہنچی یا سِن ایاس کو پہنچ چکی ہے یا عمر کے حسابوں بالغہ ہو چکی ہے مگر ابھی حیض نہیں آیا ہے تو عدت تین مہینے ہے اور باندی ہے تو ڈیڑھ ماہ۔ (6)
مسئلہ ۶: اگر طلاق یا فسخ پہلی تا ریخ کو ہواگرچہ عصر کے وقت تو چاند کے حساب سے تین مہینے ورنہ ہر مہینہ تیس دن کا قرار دیا جائے یعنی عدت کے کل دن نوے ہونگے۔ (7)(عالمگیری، جوہرہ)