تم میں جو مرجائیں اور بی بیاں چھوڑیں وہ چار مہینے دس دن اپنے آپ کو روکے رہیں پھر جب اُن کی عدت پوری ہو جائے تو تم پر کچھ مؤاخذہ نہیں اُس کام میں جو عورتیں اپنے معاملہ میں شرع کے موافق کریں اور اﷲ (عزوجل) کو تمھارے کاموں کی خبر ہے۔
حدیث ۱: صحیح بخاری شریف میں مسور بن مخرمہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی کہ سبیعہ اسلمیہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کے وفات شوہر کے چند دن بعد بچہ پیدا ہوا، نبی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر نکاح کی اجازت طلب کی حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے اجازت دیدی۔(3) نیز اُس میں ہے، کہ عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ سورہ طلاق (جس میں حمل کی عدت کا بیان ہے) سورہ بقرہ (کہ اس میں عدت وفات چار مہینے دس دن ہے) کے بعد نازل ہوئی (4)یعنی حمل والی کی عدت چار ماہ دس دن نہیں بلکہ وضع حمل ہے۔ اور ایک روایت میں ہے، کہ میں اس پر مباہلہ کر سکتا ہوں کہ وہ اس کے بعد نازل ہوئی۔(5)
حدیث ۲: امام مالک و شافعی وبیہقی حضرت امیرا لمومنین عمر بن الخطاب رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ وفات کے بعد اگر بچہ پیدا ہوگيا اور ہنوز مُردہ چارپائی پر ہو تو عدت پوری ہوگئی۔ (6)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1۔۔۔۔۔۔پ ۲۸، الطلاق: ۴. 2۔۔۔۔۔۔پ۲، البقرۃ: ۲۳۴.
3۔۔۔۔۔۔ ''صحیح البخاري''، کتاب الطلاق، باب واولات الاحمال... إلخ، الحدیث: ۵۳۲۰، ج۴ص۴۶۰.
4۔۔۔۔۔۔''صحیح البخاری''، کتاب التفسیر، باب والذین یتوفون منکم...الخ، الحدیث: ۴۵۳۲، ج۳، ص۱۸۳.
5۔۔۔۔۔۔''سنن ابی داود''، کتاب الطلاق، باب فی عدۃ الحامل، الحدیث: ۲۳۰۷، ج۲، ص۴۲۷.
6۔۔۔۔۔۔''الموطأ للامام مالک''، کتاب الطلاق، باب عدۃالمتوفی عنھا...الخ، الحدیث:۱۲۸۴، ج۲، ص۱۳۲.