| بہارِشریعت حصّہ ہشتم (8) |
مسئلہ ۲۰: قاضی کی تفریق کے بعد گواہوں نے شہادت دی کہ تفریق سے پہلے عورت نے جماع کا اقرار کیا تھا تو تفریق باطل ہے اور تفریق کے بعد اقرار کیا ہو تو باطل نہیں۔ (1)(عالمگيری)
مسئلہ ۲۱: تفریق کے بعد اسی عورت نے پھر اُسی شوہر سے نکاح کیا یا دوسری عورت نے جس کو یہ حال معلوم تھا تو اب دعویٰ تفریق کا حق نہیں۔(2) (درمختار)
مسئلہ ۲۲: اگر شوہر میں اور کسی قسم کا عیب ہے مثلاً جنون، جذام، برص یا عورت میں عیب ہو کہ اُس کامقام بند ہو یا اُس جگہ گوشت یا ہڈی پیدا ہوگئی ہو تو فسخ کا اختیار نہیں۔ (3)(درمختار)
مسئلہ ۲۳: شوہر جماع کرتا ہے مگر منی نہیں ہے کہ انزال ہو تو عورت کو دعوے کا حق نہیں۔(4) (عالمگيری)عدّت کا بیان
اﷲ عزوجل فرماتا ہے:
( یٰۤاَیُّہَا النَّبِیُّ اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ فَطَلِّقُوۡہُنَّ لِعِدَّتِہِنَّ وَ اَحْصُوا الْعِدَّۃَ ۚ وَ اتَّقُوا اللہَ رَبَّکُمْ ۚ لَا تُخْرِجُوۡہُنَّ مِنۡۢ بُیُوۡتِہِنَّ وَ لَا یَخْرُجْنَ اِلَّاۤ اَنۡ یَّاۡتِیۡنَ بِفَاحِشَۃٍ مُّبَیِّنَۃٍ ؕ ) (5)
اے نبی! (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) لوگوں سے فرمادو کہ جب عورتوں کو طلاق دو تو اُنھیں عدت کے وقت کے ليے طلاق دو اور عدت کا شمار رکھو اور اﷲ سے ڈرو جو تمھارا رب ہے، نہ عدت میں عورتوں کو اُن کے رہنے کے گھروں سے نکالو اور نہ وہ خود نکلیں مگر یہ کہ کھلی ہوئی بے حیائی کی بات کریں۔
اور فرماتا ہے:( وَالْمُطَلَّقٰتُ یَتَرَبَّصْنَ بِاَنۡفُسِہِنَّ ثَلٰثَۃَ قُرُوۡٓءٍ ؕ وَلَا یَحِلُّ لَہُنَّ اَنۡ یَّکْتُمْنَ مَا خَلَقَ اللہُ فِیۡٓ اَرْحَامِہِنَّ اِنۡ کُنَّ یُؤْمِنَّ بِاللہِ وَالْیَوْمِ الۡاٰخِرِ ؕ ) (6)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 1۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق، الباب الثاني عشرفي العنین ، ج۱، ص۵۲۴. 2۔۔۔۔۔۔ ''الدرالمختار''،کتاب الطلاق، باب العنین وغیرہ، ج۵، ص۱۷۹. 3۔۔۔۔۔۔ المرجع السابق، ص۱۷۸. 4۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق، الباب الثاني عشرفي العنین ،ج۱، ص۵۲۵. 5۔۔۔۔۔۔پ۲۸، الطلاق:۱. 6۔۔۔۔۔۔پ۲، البقرۃ: ۲۲۸.