مسئلہ ۱۴: شوہر نا بالغ ہے تو جب تک بالغ نہ ہولے میعاد نہ مقررکی جائے۔(1) (درمختار)
مسئلہ ۱۵: عورت مجنونہ ہے اور شوہر عنین تو ولی کے دعوے پر قاضی میعاد مقرر کریگا اور تفریق کر دے گا اور اگر ولی بھی نہ ہو تو قاضی کسی شخص کو اُس کی طرف سے مدعی بنا کر یہ احکام جاری کریگا۔(2) (درمختار)
مسئلہ ۱۶: میعاد گزرنے کے بعد عورت نے دعویٰ کیا کہ شوہر نے جماع نہیں کیااور وہ کہتا ہے کیا ہے تو اگر عورت ثیب تھی تو شوہر کو قسم کھلائیں اُس نے قسم کھالی تو عورت کا حق باطل ہوگیا اور قسم کھانے سے انکار کرے تو عورت کو اختیار ہے تفریق چاہے تو تفریق کردینگے اور اگر عورت اپنے کو بکر (3) کہتی ہے تو وہی صورتیں ہیں جو مذکور ہوئیں۔ (4)(عالمگيری)
مسئلہ ۱۷: عورت کو قاضی نے اختیار دیا اُس نے شوہر کو اختیار کیا یا مجلس سے اُٹھ کھڑی ہوئی یا لوگوں نے اُسے اُٹھادیا یا ابھی اُس نے کچھ نہ کہا تھا کہ قاضی اُٹھ کھڑا ہوا تو اِن سب صورتوں میں عورت کا خیار باطل ہوگیا۔(5) (عالمگیری وغیرہ)
مسئلہ ۱۸: تفریقِ قاضی طلاق بائن قرار دی جائیگی اور خلوت ہوچکی ہے تو پورا مہر پائیگی اور عدت بیٹھے گی ورنہ نصف مہر ہے اور عدت نہیں اور اگر مہر مقرر نہ ہواتھا تو متعہ(6) ملے گا۔ (7)(درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۱۹: قاضی نے ایک سال کی مہلت دی تھی سال گزرنے پر عورت نے دعویٰ نہ کیا تو حق باطل نہ ہوگا جب چاہے آکر پھر دعویٰ کر سکتی ہے اور اگر شوہر اور مہلت مانگتا ہے تو جب تک عورت راضی نہ ہو قاضی مہلت نہ دے اور عورت کی رضا مندی سے قاضی نے مہلت دی تو عورت پر اس میعاد کی پابندی ضرور نہیں جب چاہے دعویٰ کر سکتی ہے اور یہ میعاد باطل ہو جائے گی اور اگر میعاد اول کے بعد قاضی معزول ہوگیا یا اُس کا انتقال ہوگيا اور دوسرااُس کی جگہ پر مقرر ہوا اور عورت نے گواہوں سے ثابت کر دیا کہ قاضی اول نے مہلت دی تھی اور وہ زمانہ ختم ہو چکا تو یہ قاضی سرے سے مدت مقرر نہ کریگا بلکہ اُسی پر عمل کریگا جو قاضی اول نے کیا تھا۔(8) (عالمگیری وغیرہ)