| بہارِشریعت حصّہ ہشتم (8) |
حدیث : فتح القدیر میں ہے، عبدالرزاق نے روایت کی، کہ امیر المومنین عمر بن الخطاب رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے یہ فیصلہ فرمايا کہ عنین کو ایک سال کی مدت دی جائے۔ اور ابن ابی شیبہ نے روایت کی، امیرالمومنین نے قاضی شریح کے پاس لکھ بھیجا کہ یوم مرافعہ سے(1) ایک سال کی مدت دی جائے۔اورعبدالرزاق و ابن ابی شیبہ نے مولیٰ علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ اور ابن ابی شیبہ(2)نے عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ ایک سال کی مدت دی جائے۔ اور حسن بصری و شعبی و ابراہیم نخعی و عطأ و سعید بن مسیب رضی اﷲ تعالیٰ عنہم سے بھی یہی مروی ہے۔ (3)
(مسائل فقہیّہ)
مسئلہ ۱: عنین اُس کو کہتے ہیں کہ آلہ موجود ہو اور زوجہ کے آگے کے مقام میں دخول نہ کرسکے اور اگر بعض عورت سے جماع کرسکتا ہے اور بعض سے نہیں یا ثیب کے ساتھ کر سکتاہے اوربِکر کے ساتھ نہیں تو جس سے نہیں کرسکتا اُس کے حق میں عنین ہے اور جس سے کر سکتا ہے اُس کے حق میں نہیں۔ اس کے اسباب مختلف ہیں مرض کی وجہ سے ہے یا خلقۃً(4)ایسا ہے یا بُڑھاپے کی وجہ سے یا اس پر جادو کردیا گیا ہے۔ (5)
مسئلہ ۲: اگر فقط حشفہ (6) داخل کر سکتا ہے تو عنین نہیں اور حشفہ کٹ گیا ہو تو اُس کی مقدار عضو داخل کر سکنے پر عنین نہ ہوگا اور عورت نے شوہر کا عضو کاٹ ڈالا تو مقطوع الذکر (7)کا حکم جاری نہ ہوگا۔(8) (ردالمحتار)
مسئلہ ۳: شوہر عنین ہے اور عورت کامقام بند ہے یا ہڈی نکل آئی ہے کہ مرد اُس سے جماع نہیں کرسکتا تو ایسی عورت کے ليے وہ حکم نہیں جو عنین کی زوجہ کو ہے کہ اس میں خود بھی قصور ہے۔(9) (درمختار)ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 1۔۔۔۔۔۔دعویٰ کے دن سے۔ 2۔۔۔۔۔۔اس جگہ دیگرنسخوں میں ابن شیبہ لکھاہواہے جوکہ کتابت کی غلطی معلوم ہوتی ہے اصل میں ابن ابی شیبہ ہے لہٰذاہم نے درست کردیاہے۔جن کے پاس بہارشریعت کے دیگرنسخے ہوں وہ اس کودرست کرلیں۔...عِلْمِیہ 3۔۔۔۔۔۔''فتح القدیر''،کتاب الطلاق،باب العنین وغیرہ،ج ۴،ص۱۲۸. 4۔۔۔۔۔۔یعنی پیدائشی طورپر۔ 5۔۔۔۔۔۔''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق،الباب الثاني عشرفي العنین،ج۱،ص۵۲۲. 6۔۔۔۔۔۔آلہ تناسل کی سپاری۔ 7۔۔۔۔۔۔یعنی جس کا عضو مخصو ص کاٹ دیاگیا ہو۔ 8۔۔۔۔۔۔''ردالمحتار''،کتاب الطلاق،باب العنین وغیرہ،ج۵،ص۱۶۹. 9۔۔۔۔۔۔''الدرالمختار''،کتاب الطلاق،باب العنین وغیرہ،ج۵،ص۱۶۹،۱۷۰.