Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ ہشتم (8)
227 - 282
    مسئلہ ۲۸: دو۲بچے ایک حمل سے پیدا ہوئے یعنی دونوں کے درمیان چھ ماہ سے کم کا فاصلہ ہواور ان دونوں میں پہلے سے انکار کیا دوسرے کا اقرار تو حد لگائی جائے اور اگر پہلے کا اقرار کیا دوسرے سے انکار تو لعان ہوگا بشر طیکہ انکار سے نہ پھرے اور پھر گیا تو حد لگائی جائے مگر بہر حال دونوں ثابت النسب ہیں۔(1) (درمختار) 

    مسئلہ ۲۹: جس بچے سے انکار کیا اور لعان ہواوہ مرگیا اور اُس نے اولاد چھوڑی اب لعان کرنے والے نے اُس کو اپنا پوتا پوتی قرار دیا تو وہ ثابت النسب ہے۔ (2)(درمختار) 

    مسئلہ ۳۰: اولاد سے انکار کیا اور ابھی لعان نہ ہوا کہ کسی اجنبی نے عورت پر تہمت لگائی اور اُس بچہ کو حرامی کہا اس پر حدِ قذف قائم ہوئی تو اب اُسکا نسب ثابت ہے اور کبھی منتفی نہ ہوگا۔(3) (درمختار) 

    مسئلہ ۳۱: عورت کے بچہ پیدا ہوا شوہر نے کہا یہ میرا نہیں یا یہ زنا سے ہے اور کسی وجہ سے لعان ساقط ہوگیا تو نسب منتفی نہ ہوگا حد واجب ہو یا نہیں۔ یوہیں اگر دونوں اہل لعان ہیں مگر لعان نہ ہوا تو نسب منتفی نہ ہوگا۔(4) (عالمگيری)

    مسئلہ ۳۲: نکاح کیا مگر ابھی دخول نہ ہوا بلکہ ابھی عورت کو دیکھا بھی نہیں اور عورت کے بچہ پیدا ہوا، شوہرنے اُس سے انکار کیا تو لعان ہوسکتا ہے اور بعد لعان وہ بچہ ماں کے ذمہ ہوگا اور مہر پورا دینا ہوگا۔(5) (عالمگيری) 

    مسئلہ ۳۳: لعان کے سبب جس لڑکے کا نسب عورت کے شوہر سے منقطع کر دیا گیا ہے بعض باتوں میں اُس کے ليے نسب کے احکام ہیں مثلاً وہ اپنے باپ کے ليے گواہی دے تو مقبول نہیں، نہ باپ کی گواہی اُس کے ليے مقبول، نہ وہ اپنے باپ کو زکوٰۃ دے سکے، نہ باپ اُس کو، اور اس لڑکے کے بیٹے کا نکاح باپ کی اُس لڑکی سے جو دوسری عورت سے ہے نہیں ہوسکتا یا عکس ہو جب بھی نہیں ہوسکتا، اور اگر باپ نے اُس کو مار ڈالا تو قصاص نہیں، اور دوسرا شخص یہ کہے کہ یہ میرالڑکاہے تو اُس کا نہیں ہو سکتا اگرچہ یہ لڑکا بھی اپنے کو اُس کا بیٹا کہے بلکہ تمام باتوں میں وہی احکام ہیں جو ثابت النسب کے ہیں صرف دو باتوں میں فرق ہے ایک یہ کہ ایک دوسرے کا وارث نہیں دوسرے یہ کہ ایک کا نفقہ دوسرے پر واجب نہیں۔(6)(عالمگیری ، درمختار)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔ ''الدرالمختار''، کتاب الطلاق، باب اللعان، ج۵، ص۱۶۳.

2۔۔۔۔۔۔المرجع السابق، ص۱۶۶.        3۔۔۔۔۔۔ المرجع السابق، ص۱۶۷. 

4۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق، الباب الحادی عشر في اللعان،ج۱، ص۵۱۹.

5۔۔۔۔۔۔ المرجع السابق، ص۵۱۹ ۔ ۵۲۰.

6۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق، الباب الحادی عشر في اللعان،ج۱، ص۵۲۱. 

و ''الدرالمختار''کتاب الطلاق، باب اللعان،ج۵، ص۱۶۷.
Flag Counter