مُردہ کانسب منتفی نہ ہوگا۔ نسب منتفی ہونے کی چھ۶شرطیں ہیں:
(۱) تفریق۔
(۲) وقت ولادت یا اس کے ایک دن یا دودن بعدتک ہو دو۲ دن کے بعد انکار نہیں کرسکتا۔
(۳) اس انکار سے پہلے اقرار نہ کرچکا ہو اگرچہ دلالۃً اقرار ہو مثلاًاسکو مبارکباد کہی گئی اور اس نے سکوت کیا یا اُس کے ليے کھلونے خریدے۔
(۴) تفریق کے وقت بچہ زندہ ہو۔
(۵)تفریق کے بعد اُسی حمل سے دوسرا بچہ نہ پیدا ہو یعنی چھ ۶ مہینے کے اندر۔
(۶) ثبوت نسب کا حکم شرعاً نہ ہوچکا ہو، مثلاً بچہ پیدا ہوا اور وہ کسی دودھ پیتے بچہ پر گرا اور یہ مرگیا اور یہ حکم دیا گیا کہ اُس بچہ کے باپ کے عصبہ اس کی دیت ادا کریں اور اب باپ یہ کہتا ہے کہ میر ا نہیں تو لعان ہوگا اور نسب منقطع نہ ہوگا۔(1)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۲۰: لعان و تفریق کے بعد پھر اُس عورت سے نکاح نہیں کر سکتا جب تک دونوں اہلیت لعان رکھتے ہوں اور اگر لعان کی کوئی شرط دونوں یا ایک میں مفقود ہوگئی تو اب باہم دونوں نکاح کرسکتے ہیں مثلاًشوہر نے اس تہمت میں اپنے کو جھوٹا بتایا اگرچہ صراحۃً یہ نہ کہا ہو کہ میں نے جھوٹی تہمت لگائی تھی مثلاًوہ بچہ جس کا انکار کر چکا تھا مر گیا اور اُس نے مال چھوڑا ترکہ لینے کے ليے یہ کہتا ہے کہ وہ میرا بچہ تھا تو حد قذف قائم ہوگی اوراس کا نکاح اُس عورت سے اب ہوسکتا ہے اور اگر حدقذف نہ لگائی گئی جب بھی نکاح ہو سکتا ہے۔ یوہیں اگر بعد لعان و تفریق کسی اور پر تہمت لگائی اور اس کی وجہ سے حد قذف قائم ہوئی یا عورت نے اُس کی تصدیق کی یا عورت سے وطی حرام کی گئی اگرچہ زنا نہ ہو مگر تصدیق زن سے نکاح اُس وقت جائز ہو گا جبکہ چار بار ہو اور حدولعان ساقط ہونے کے ليے ایک بار تصدیق کافی ہے۔(2) (عالمگيری، درمختار)
مسئلہ ۲۱: حمل کی نسبت اگر شوہر نے کہا کہ یہ میرا نہیں تو لعان نہیں ہاں اگر یہ کہے کہ تونے زنا کیا ہے اوریہ حمل اُسی سے ہے تو لعان ہوگا مگر قاضی اِس حمل کو شوہر سے نفی نہ کریگا۔ (3)(درمختار)