شوہر نے الفاظ لعان ادا کيے عورت نے نہیں اور قاضی غیر حنفی نے (جس کا یہ مذہب ہو کہ صرف شوہر کے لعان سے تفریق ہوجاتی ہے) تفریق کر دی تو جدائی ہوگئی اور قاضی حنفی ایسا کریگا تو اُس کی قضا نافذ نہ ہوگی کہ یہ اُس کے مذہب کے خلاف ہے اور خلاف مذہب حکم کرنے کا اُسے حق نہیں۔ (1)(درمختار)
مسئلہ ۱۶: لعان کے بعد ابھی تفریق نہیں ہوئی ہے اور دونوں یا ایک کو کوئی ایسا امر لاحق ہو ا کہ لعان سے پیشتر ہوتا تولعان ہی نہ ہوتا مثلاً ایک یا دونوں گونگے یا مرتد ہو گئے یا کسی کو تہمت لگائی اور حد قذف قائم ہوئی یا ایک نے اپنی تکذیب کی یاعورت سے وطی حرام کی گئی تو لعان باطل ہوگيا، لہٰذا قاضی اب تفریق نہ کریگا اور اگر دونوں میں سے کوئی مجنون ہوگيا تو لعان ساقط نہ ہوگا لہٰذا تفریق کردیگا اور اگر بوہرا ہوگیا جب بھی تفریق کر دیگا اور اگر مرد نے الفاظ لعان کہہ ليے تھے اور عورت نے ابھی نہیں کہے تھے کہ بوہرا ہوگیا یا عورت بوہری ہوگئی تو تفریق نہ ہوگی نہ عورت سے لعان کرایا جائے۔(2) (عالمگيری)
مسئلہ ۱۷: لعان کے بعد شوہر یا عورت نے تفریق کے ليے کسی کو اپنا وکیل کیا اور غائب ہوگيا تو قاضی وکیل کے سامنے تفریق کر دیگا۔ یوہیں اگر بعد لعان چل ديے پھر کسی کو وکیل بنا کر بھیجا تو قاضی اس وکیل کے سامنے تفریق کر دیگا۔ (3)(عالمگيری)
مسئلہ ۱۸: لعان کے بعد اگر ابھی تفریق نہ ہوئی ہو جب بھی اُس عورت سے وطی و دواعی وطی (4)حرام ہیں اور تفریق ہوگئی تو عدت کا نفقہ و سُکنےٰ یعنی رہنے کا مکان پائے گی اور عدت کے اندر جو بچہ پیدا ہوگا اُسی شوہر کا ہوگا اگر دو ۲برس کے اندر پیداہو۔ اور اگر عدت اُس عورت کے ليے نہ ہو اور چھ ۶ ماہ کے اندر بچہ پیدا ہو تو اسی شوہر کا قرار دیاجائیگا۔(5)(درمختار ، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۹: اگر شوہر نے اُس بچہ کی نسبت جو اس کے نکاح میں پیدا ہوا ہے اور زندہ بھی ہے یہ کہا کہ یہ میرانہیں ہے اورلعان ہو اتو قاضی اُس بچہ کا نسب شوہر سے منقطع کر دیگا اور وہ بچہ اب ماں کی طرف منتسب ہوگا بشرطیکہ علوق (6)ایسے وقت میں ہوا کہ عورت میں صلاحیت لعان ہو، لہٰذا اگر اُس وقت باندی تھی اب آزاد ہے یا اُس وقت کافرہ تھی اب مسلمان ہے تو نسب منتفی نہ ہوگا،(7) اس واسطے کہ اِس صورت میں لعان ہی نہیں اور اگر وہ بچہ مر چکا ہے تو لعان ہوگا اورنسب منتفی نہیں ہوسکتا ہے۔ یوہیں اگر دوبچے ہوئے اور ایک مر چکا ہے اور ایک زندہ ہے اور دونوں سے شوہرنے انکار کر دیا یا لعان سے پہلے ایک مرگیا تو اُس