شوہر پر حد قذف نہیں بلکہ تعزیر ہے مگر جبکہ عفیفہ نہ ہو اورعلانیہ زنا کرتی ہو تو تعزیر بھی نہیں اور اگر دونوں محدود فی القذف (1)ہوں تو شوہر پر حد قذف ہے۔ (2)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۰: اگر عورت سے کہا تونے بچپن میں زنا کیا تھا یا حالت جنون میں اور یہ بات معلوم ہے کہ عورت کو جنون تھا تو نہ لعان ہے، نہ شوہر پر حد قذف، اور اگر کہا تو نے حالت کفر میں یا جب تو کنیز تھی اُس وقت زنا کیاتھا یا کہا چالیس (۴۰) برس ہوئے کہ تونے زنا کیا حالانکہ عورت کی عمر اتنی نہیں تو ان صورتوں میں لعان ہے۔(3) (درمختار)
مسئلہ ۱۱: عورت سے کہا اے زانیہ یا تو نے زنا کیا یا میں نے تجھے زنا کرتے دیکھا تو یہ سب الفاظ صریح ہیں، اِن میں لعان ہوگا اور اگر کہا تونے حرامکاری کی یا تجھ سے حرام طور پر جماع کیا گیا یا تجھ سے لواطت کی گئی تو لعان نہیں۔ (4)(عالمگيری)
مسئلہ ۱۲: لعان کا حکم یہ ہے کہ اس سے فارغ ہوتے ہی اس شخص کو اُس عورت سے وطی حرام ہے مگر فقط لعان سے نکاح سے خارج نہ ہوئی بلکہ لعان کے بعد حاکم اسلام تفریق کردیگا اور اب مطلقہ بائن ہوگئی لہٰذا بعدلعان اگر قاضی نے تفریق نہ کی ہو تو طلاق دے سکتا ہے ایلا و ظہار کر سکتا ہے دونوں میں سے کوئی مرجائے تو دوسرا اُسکا ترکہ پائیگا اور لعان کے بعد اگر وہ دونوں علیحدہ ہونا نہ چاہیں جب بھی تفریق کردی جائیگی۔(5) (جوہرہ)
مسئلہ ۱۳: اگر لعان کی ابتدا قاضی نے عورت سے کرائی تو شوہر کے الفاظ لعان کہنے کے بعد عورت سے پھر کہلوائے اور دوبارہ عورت سے نہ کہلوائے اور تفریق کردی تو ہوگئی۔(6) (جوہرہ)
مسئلہ ۱۴: لعان ہو جانے کے بعد ابھی تفریق نہ کی تھی کہ خود قاضی کا انتقال ہوگيا یا معزول ہوگيا اور دوسرااُس کی جگہ مقرر کیا گیا تو یہ قاضی دوم اب پھر لعان کرائے۔(7)(جوہرہ)
مسئلہ ۱۵: تین تین بار دونوں نے الفاظ لعان کہے تھے یعنی ابھی پورا لعان نہ ہوا تھا کہ قاضی نے غلطی سے تفریق کر دی تو تفریق ہوگئی مگر ایسا کرنا خلافِ سنت ہے اور اگر ایک ایک یا دو دو بار کہنے کے بعد تفریق کی تو تفریق نہ ہوئی اور اگر صرف