کے ليے افضل یہ ہے کہ ایسی بات کو چھپائے اور حاکم کو بھی چاہیے کہ عورت کو پردہ پوشی کا حکم دے۔ (1)(عالمگیری، درمختار)
مسئلہ ۵: عورت کے مرجانے کے بعد اُس کو تہمت لگائی اور اُس عورت کی دوسرے شوہر سے اولاد ہے جس کے نسب میں اسکی تہمت کی وجہ سے خرابی پڑتی ہے اُس نے مطالبہ کیا اور شوہر ثبوت نہ دے سکا تو حد قذف قائم کی جائے اور اگر دوسرے سے اولاد نہیں بلکہ اسی کی اولادیں ہیں تو حد قائم نہیں ہو سکتی۔(2)(ردالمحتار)
مسئلہ ۶: مرد و عورت دونوں کافر ہوں یا عورت کافر ہ یا دونوں مملوک ہوں یا ایک یا دونوں میں سے ایک مجنون ہو یا نابالغ یا کسی پر حد قذف قائم ہوئی ہے تو لعان نہیں ہو سکتا اور اگر دونوں اندھے یا فاسق ہوں یا ایک تو ہوسکتا ہے۔ (3)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۷: شوہر اگر تہمت لگانے سے انکار کرتا ہے او ر عورت کے پاس دو۲ مرد گواہ بھی نہ ہوں تو شوہر سے قسم نہ کھلائی جائے اور اگر قسم کھلائی گئی اُس نے قسم کھانے سے انکار کیا تو حد قائم نہ کریں۔ (4)(درمختار)
مسئلہ ۸: شوہر نے تہمت لگائی اور اب لعان سے انکار کرتا ہے تو قید کیا جائے گا یہاں تک کہ لعان کرے یا کہے میں نے جھوٹ کہا تھا اگر جھوٹ کا اقرار کرے تو اُس پر حد قذف قائم کریں اور شوہر نے لعان کے الفاظ ادا کرليے تو ضرور ہے کہ عورت بھی ادا کرے ورنہ قید کی جائیگی یہاں تک کہ لعان کرے یا شوہر کی تصدیق کرے اور اب لعان نہیں ہو سکتا نہ آئندہ تہمت لگانے سے شوہر پر حد قذف قائم ہوگی مگر عورت پر تصدیق شوہر کی وجہ سے حد زنا بھی قائم نہ ہوگی جبکہ فقط اتنا کہا ہو کہ وہ سچا ہے اور اگر اپنے زنا کا اقرار کیا تو بشرائط اقرار زنا حد زنا قائم ہو گی۔(5) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۹: شوہر کے نا قابل شہادت ہونے کی وجہ سے اگر لعان ساقط ہو مثلاً غلام ہے یا کافر یا اُس پر حد قذف لگائی جاچکی ہے تو حد قذف قائم کی جائے بشرطیکہ عاقل بالغ ہو۔ اور اگر لعان کا ساقط ہونا عورت کی جانب سے ہے کہ وہ اس قابل نہیں مثلاً کافرہ ہے یا باندی یا محدودہ فی القذف یا وہ ایسی ہے کہ اُس پر تہمت لگانے والے کے ليے حد قذف نہ ہو یعنی عفیفہ نہ ہو تو