Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ ہشتم (8)
221 - 282
     (۸) اُن میں کسی پر حد قذف نہ لگائی گئی ہو۔ 

     (۹) مرد نے اپنے اِس قول پر گواہ نہ پیش کيے ہوں۔ 

     (۱۰) عورت زنا سے انکار کرتی ہواور اپنے کو پارسا کہتی ہو اصطلاح شرع میں پار سا اُس کو کہتے ہیں جس کے ساتھ وطی حرام نہ ہوئی ہونہ وہ اسکے ساتھ متہم ہو(1) لہٰذا طلاق بائن کی عدت میں اگر شوہر نے اُس سے وطی کی اگرچہ وہ اپنی نا دانی سے یہ سمجھتا تھا کہ اس سے وطی حلال ہے تو عورت عفیفہ نہیں۔ یوہیں اگر نکاح فاسد کرکے اُس سے وطی کی تو عفت (2)جاتی رہی یا عورت کی اولاد ہے جس کے باپ کو یہاں کے لوگ نہ جانتے ہوں اگرچہ حقیقۃً وہ ولدالزنا (3) نہیں ہے یہ صورت متہم ہونے کی ہے اس سے بھی عفت جاتی رہتی ہے۔ اور اگر وطی حرام عارضی سبب سے ہو مثلاًحیض ونفاس وغیرہ میں جن میں وطی حرام ہے وطی کی تو اس سے عفت نہیں جاتی۔ 

    (۱۱) صریح زنا کی تہمت لگائی ہو یا اُس کی جو اولاد اسکے نکاح میں پیدا ہوئی اُس کو کہتا ہو کہ یہ میری نہیں یا جو بچہ عورت کا دوسرے شوہر سے ہے اُس کو کہتا ہو کہ یہ اُس کا نہیں۔ 

    (۱۲) دارالاسلام میں یہ تہمت لگائی ہو۔ 

    (۱۳) عورت قاضی کے پاس اُس کا مطالبہ کرے۔ 

    (۱۴) شوہر تہمت لگانے کا اقرار کرتا ہو یا دومرد گواہوں سے ثابت ہو۔ لعان کے وقت عورت کاکھڑا ہونا شرط نہیں بلکہ مستحب ہے۔ (4)

    مسئلہ ۳: عورت پر چند بار تہمت لگائی تو ایک ہی بار لعان ہو گا۔(5)(عالمگیری) 

    مسئلہ ۴: لعان میں تما دی نہیں یعنی اگر عورت نے زما نہ دراز تک مطالبہ نہ کیا تو لعان ساقط نہ ہوگا ہر وقت مطالبہ کا اُس کو اختیار باقی ہے۔ لعان معاف نہیں ہو سکتا یعنی اگر شوہر نے تہمت لگائی اور عورت نے اُس کو معاف کر دیا اور معاف کرنے کے بعد اب قاضی کے یہاں دعویٰ کرتی ہے تو قاضی لعان کا حکم دیگا اور عورت دعویٰ نہ کرے تو قاضی خود مطالبہ نہیں کرسکتا۔ یوہیں اگر عورت نے کچھ لے کر صلح کر لی تو لعان ساقط نہ ہوا جو لیا ہے اُسے واپس کرکے مطالبہ کرنےکا عورت کو حق حاصل ہے مگر عورت
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔نہ اُس پر وطی حرام کی تہمت لگی ہو۔        2۔۔۔۔۔۔پاکدامنی۔        3۔۔۔۔۔۔ زناسے پیداہونے والابچہ۔

4۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق، الباب الحادی عشر في اللعان، ج۱، ص۵۱۵. 

و ''الدرالمختار''و''ردالمحتار''، کتاب الطلاق، باب اللعان، ج۵، ص۱۵۱،۱۵۶.

5۔۔۔۔۔۔''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق، الباب الحادی عشر فياللعان، ج۱، ص۵۱۴.
Flag Counter