مسئلہ ۱: مرد نے اپنی عورت کو زنا کی تہمت لگائی اس طرح پر کہ اگر اجنبیہ عورت کو لگاتاتو حدِ قذف ( تہمتِ زنا کی حد) اس پر لگائی جاتی یعنی عورت عاقلہ، بالغہ، حرہ، مسلمہ ،عفیفہ(1) ہو تو لعان کیا جائیگا اس کا طریقہ یہ ہے کہ قاضی کے حضور پہلے شوہر قسم کے ساتھ چار مرتبہ شہادت دے یعنی کہے کہ میں شہادت دیتا ہوں کہ میں نے جو اس عورت کو زنا کی تہمت لگائی اس میں خدا کی قسم! میں سچا ہوں پھر پانچویں مرتبہ یہ کہے کہ اُس پر خدا کی لعنت اگر اس امر میں کہ اس کو زنا کی تہمت لگائی جھوٹ بولنے والوں سے ہو اور ہر بار لفظ ــ''اس'' سے عورت کی طرف اشارہ کرے پھر عورت چار مرتبہ یہ کہے کہ میں شہادت دیتی ہوں خدا کی قسم! اس نے جو مجھے زنا کی تہمت لگائی ہے، اس بات میں جھوٹا ہے اور پانچویں مرتبہ یہ کہے کہ اُس پر اﷲ (عزوجل) کا غضب ہو، اگر یہ اُس بات میں سچا ہو جو مجھے زنا کی تہمت لگائی۔ لعان میں لفظ شہادت شرط ہے، اگر یہ کہا کہ میں خدا کی قسم کھاتا ہوں کہ سچا ہوں، لعان نہ ہوا۔ (2)
مسئلہ ۲: لعان کے ليے چند شر طیں ہیں:
(۱) نکاح صحیح ہو۔ اگر اُس عورت سے اس کا نکاح فاسد ہوا ہے اور تہمت لگائی تو لعان نہیں۔
(۲) زوجیت قائم ہو(3) خواہ دخول ہوا ہو یا نہیں لہٰذا اگر تہمت لگانے کے بعد طلاق بائن دی تو لعان نہیں ہوسکتا اگرچہ طلاق دینے کے بعد پھر نکاح کرلیا۔ یوہیں اگر طلاق بائن دینے کے بعد تہمت لگائی یازوجہ کے مر جانے کے بعد تو لعان نہیں اور اگر تہمت کے بعد رجعی طلاق دی یا رجعی طلاق کے بعد تہمت لگائی تو لعان ساقط نہیں۔
(۳) دونوں آزاد ہوں۔
(۴) دونوں عاقل ہوں۔
(۵) دونوں بالغ ہوں۔
(۶) دونوں مسلمان ہوں۔
(۷) دونوں ناطق ہوں یعنی اُن میں کوئی گونگا نہ ہو۔