اُسے انکار نسب کی اجازت نہ دی۔'' (1)
حدیث ۳: صحیح بخاری شریف ابن عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنہما سے مروی، ہلال بن اُمیّہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے اپنی بی بی پر تہمت لگائی، حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے ارشاد فرمايا: ''گواہ لاؤ، ورنہ تمھاری پیٹھ پر حد لگائی جائے گی۔'' عرض کی یارسول اﷲ! (عزوجل و صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کوئی شخص اپنی عورت پر کسی مرد کو دیکھے تو گواہ ڈھونڈنے جائے۔ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے وہی جواب دیا۔ پھر ہلال نے کہا، قسم ہے اُس کی جس نے حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کو حق کے ساتھ بھیجا ہے! بیشک میں سچا ہوں اور خدا کوئی ایسا حکم نازل فرمائیگا جو میری پیٹھ کو حد سے بچاوے۔ اُس وقت جبریل علیہ السلام اُترے اور ( وَالَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ اَزْوَاجَھُمْ ) نازل ہوئی، ہلال نے حاضر ہوکر لعان کا مضمون ادا کیا۔ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے ارشاد فرمايا: بیشک اﷲ (عزوجل) جانتا ہے کہ تم میں ایک جھوٹا ہے تو کیا تم دونوں میں کوئی توبہ کرتا ہے۔ پھر عورت کھڑی ہوئی اُس نے بھی لعان کیا، جب پانچویں بار کی نوبت آئی تو لوگوں نے اُسے روک کر کہا، اب کہے گی تو ضرور غضب کی مستحق ہو جائیگی اس پر وہ کچھ رُکی اور جھجکی جس سے ہم کو خیال ہوا کہ رجوع کریگی مگر پھر کھڑی ہو کر کہنے لگی میں تو اپنی قوم کو ہمیشہ کے ليے رسوانہ کرونگی پھر وہ پانچواں کلمہ بھی اُس نے ادا کر دیا۔ (2)
حدیث ۴: صحیحین میں عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہما سے مروی کہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے مردوعورت میں لعان کرایا پھر شوہر نے عورت کے لڑکے سے انکار کر دیا، حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے دونوں میں تفریق کر دی اور بچہ کو عورت کی طرف منسوب کر دیا اور حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے لعان کے وقت پہلے مرد کو نصیحت و تذکیر کی اور یہ خبر دی کہ دُنیا کا عذاب آخرت کے عذاب سے بہت آسان ہے پھر عورت کو بُلا کر نصیحت و تذکیر کی اور اُسے بھی یہی خبر دی۔ دوسری روایت میں ہے، کہ مرد نے اپنے مال (مہر) کا مطالبہ کیا۔ ارشاد فرمايا: کہ ''تم کو مال نہ ملے گا، اگر تم نے سچ کہا ہے تو جو منفعت اُس سے اُٹھا چکے ہو اُس کے بدلے میں ہوگيا اور اگر تم نے جھوٹ کہا ہے تو یہ مطالبہ بہت بعیدو بعیدتر ہے۔'' (3)
حدیث ۵: ابن ماجہ میں بروایت عمر و بن شعیب عن ابیہ عن جدہ مروی کہ حضور اکرم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمايا: کہ ''چار عورتوں سے لعان نہیں ہوسکتا۔ (۱) نصرانیہ جو مسلمان کی زوجہ ہے۔ اور (۲)یہودیہ جو مسلمان کی عورت ہے۔ اور(۳) حرہ جو کسی غلام کے نکاح میں ہے۔اور (۴) باندی جو آزاد مرد کے نکاح میں ہے۔'' (4)