(وَالَّذِیۡنَ یَرْمُوۡنَ اَزْوَاجَہُمْ وَلَمْ یَکُنۡ لَّہُمْ شُہَدَآءُ اِلَّاۤ اَنۡفُسُہُمْ فَشَہَادَۃُ اَحَدِہِمْ اَرْبَعُ شَہٰدٰتٍۭ بِاللہِ ۙ اِنَّہٗ لَمِنَ الصّٰدِقِیۡنَ ﴿۶﴾وَالْخَامِسَۃُ اَنَّ لَعْنَتَ اللہِ عَلَیۡہِ اِنۡ کَانَ مِنَ الْکٰذِبِیۡنَ ﴿۷﴾وَیَدْرَؤُا عَنْہَا الْعَذَابَ اَنْ تَشْہَدَ اَرْبَعَ شَہٰدٰتٍۭ بِاللہِ ۙ اِنَّہٗ لَمِنَ الْکٰذِبِیۡنَ ۙ﴿۸﴾وَالْخَامِسَۃَ اَنَّ غَضَبَ اللہِ عَلَیۡہَاۤ اِنۡ کَانَ مِنَ الصّٰدِقِیۡنَ ﴿۹﴾ ) (1)
اور جو لوگ اپنی عورتوں کو تہمت لگائیں اور اُن کے پاس اپنے بیان کے سوا گواہ نہ ہوں تو ایسے کسی کی گواہی یہ ہے کہ چار بار گواہی دے اﷲ (عزوجل) کے نام سے کہ وہ سچا ہے اور پانچویں یہ کہ اﷲ (عزوجل) کی لعنت ہواُس پر اگر جھوٹا ہواور عورت سے سزا یوں ٹلے گی کہ وہ اﷲ (عزوجل) کا نام لے کر چار بار گواہی دے کہ مرد جھوٹا ہے اور پانچویں بار یوں کہ عورت پر اﷲ (عزوجل) کا غضب اگر مرد سچاہو۔
حدیث ۱: صحیح مسلم شریف میں ابو ہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی، کہ سعد بن عبادہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے عرض کی، یارسول اﷲ (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم )کیا کسی مرد کو اپنی بی بی کے ساتھ پاؤں تو اُسے چھوؤں بھی نہیں، یہاں تک کہ چار گواہ لاؤں؟ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے ارشاد فرمايا: ہاں۔ اُنھوں نے عرض کی، ہر گز نہیں، قسم ہے اُس کی جس نے حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کو حق کے ساتھ بھیجا ہے! میں فوراً تلوار سے کام تمام کر دونگا۔ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم)نے لوگوں کو مخاطب کر کے فرمایا: ''سنو تمھارا سردار کیا کہتا ہے، بیشک وہ بڑا غیرت والا ہے اور میں اُس سے زیادہ غیرت والا ہوں اور اﷲ (عزوجل) مجھ سے زیادہ غیرت والا ہے۔'' دوسری روایت میں ہے، کہ ''یہ اﷲ (عزوجل) کی غیرت ہی کی وجہ سے ہے کہ فواحش (بے حیائی کی باتوں) کو حرام فرما ديا ہے، خواہ وہ ظاہر ہوں یا پوشیدہ۔'' (2)
حدیث ۲: صحیحین میں اُنھیں سے مروی، کہ ایک اعرابی نے حاضر ہو کر حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) سے عرض کی کہ میری عورت کے سیاہ رنگ کا لڑکا پیدا ہوا ہے اورمجھے اِس کا اچنبا ہے (یعنی معلوم ہوتا ہے میرانہیں)۔ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے ارشاد فرمايا: ''تیرے پاس اونٹ ہیں؟'' عرض کی، ہاں۔ فرمايا: اُن کے رنگ کیا ہیں؟ عرض کی، سُرخ۔ فرمايا: ''اُن میں کوئی بھورا بھی ہے؟'' عرض کی، چند بھورے بھی ہیں۔ فرمايا: ''تو سُرخ رنگ والوں میں یہ بھورا کہاں سے آگیا؟'' عرض کی، شاید رگ نے کھینچا ہو (یعنی اس کے باپ دادا میں کوئی ایسا ہوگا، اُس کا اثر ہوگا) فرمايا: ''تو یہاں بھی شاید رگ نے کھینچ لیا ہو، اتنی بات پرــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 1۔۔۔۔۔۔پ ۱۸،النور:۶۔۹. 2۔۔۔۔۔۔''صحیح مسلم''، کتاب اللعان، الحدیث: ۱۶۔۱۴۹۸،۱۴۹۹، ص۸۰۵.