کھاناکھلادیا تو دونوں کفارے ادا ہوگئے اگرچہ معین نہ کیا ہو کہ یہ فلاں کاکفارہ ہے اور یہ فلاں کا۔ اور اگر دونوں دو قسم کے کفارے ہوں تو کوئی ادا نہ ہو ا مگر جبکہ یہ نیت ہو کہ ایک کفارہ میں یہ اور ایک میں وہ اگرچہ معین نہ کیا ہو کہ کون سے کفارہ میں یہ اور کس میں وہ۔ اور اگر دونوں کی طرف سے ایک غلام آزاد کیا یادوماہ کے روزے رکھے تو ایک ادا ہوا اور اُسے اختیار ہے کہ جس کے ليے چاہے معین کرے اور اگر دونوں کفارے دوقسم کے ہیں مثلاً ایک ظہار کا ہے دوسرا قتل کا تو کوئی کفارہ ادا نہ ہوا مگر جبکہ کافر کوآزاد کیا ہو تو یہ ظہار کے ليے متعین ہے کہ قتل کے کفارہ میں مسلمان کا آزاد کرنا شرط ہے۔(1) (درمختار)
مسئلہ ۳۰: دو ۲ قسم کے دوکفارے ہیں اور ساٹھ مسکین کو ایک ایک صاع گیہوں دونوں کفاروں میں دیدیے تو دونوں ادا ہوگئے اگرچہ پورا پوراصاع ایک مرتبہ دیا ہو۔ (2)(درمختار)
مسئلہ ۳۱: نصف غلام آزاد کیا اور ایک مہینے کے روزے رکھے یا تیس مسکینوں کو کھانا کھلایا تو کفارہ ادا نہ ہوا۔(3)(عالمگیری)
مسئلہ ۳۲: ظہار میں یہ ضروری ہے کہ قربت سے پہلے ساٹھ مساکین کو کھلادے اور اگر ابھی پورے ساٹھ مساکین کو کھلا نہیں چکا ہے اور درمیان میں وطی کرلی تو اگرچہ یہ حرام ہے مگر جتنوں کو کھلا چکا ہے وہ باطل نہ ہوا، با قیوں کو کھلادے، سرے سے پھر ساٹھ کو کھلانا ضرور نہیں۔(4) (جوہرہ)
مسئلہ ۳۳: دوسرے نے بغیر اس کے حکم کے کھِلا دیا تو کفارہ ادا نہ ہوا اور اس کے حکم سے ہے تو صحیح ہے مگر جو صَرف ہوا ہے وہ اس سے نہیں لے سکتا ہاں اگر اس نے حکم کرتے وقت یہ کہدیا ہو کہ جو صرف ہوگا میں دوں گا تولے سکتا ہے۔(5) (درمختار)
مسئلہ ۳۴: جس کے ذمہ کفارہ تھا اُس کا انتقال ہوگیا وارث نے اُس کی طرف سے کھانا کھلادیا یا قسم کے کفارہ میں کپڑے پہنا دیے تو ہو جائیگا اور غلام آزاد کیا تو نہیں۔ (6)(ردالمحتار)