طرح اختیارہے۔(1) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۲۴: کھلانے میں پیٹ بھر کر کھلانا شرط ہے اگرچہ تھوڑے ہی کھانے میں آسودہ ہوجائیں (2) اور اگر پہلے ہی سے کوئی آسودہ تھا تو اُس کا کھانا کافی نہیں اور بہتر یہ ہے کہ گیہوں کی روٹی اور سالن کھلائے اوراس سے اچھا کھاناہو تو اور بہتر اور جوکی روٹی ہو تو سالن ضروری ہے۔(3) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۲۵: ایک مسکین کو ساٹھ دن تک دونوں وقت کھلایا یا ہر روز بقدر صدقہ فطراُسے دیدیا جب بھی اد ا ہوگیا اور اگر ایک ہی دن میں ایک مسکین کو سب دیدیا ایک دفعہ میں یا ساٹھ دفعہ کر کے یا اُس کو سب بطور اباحت دیا تو صرف اُس ایک دن کا ادا ہوا۔ یوہیں اگر تیس مساکین کو ایک ایک صاع گیہوں ديے یا دودو صاع جَو تو صرف تیس کو دینا قرار پائیگا یعنی تیس مساکین کو پھر دینا پڑے گا یہ اُس صورت میں ہے کہ ایک دن میں ديے ہوں اور دودنوں میں ديے تو جائز ہے۔(4) (عالمگیری وغیرہ)
مسئلہ ۲۶: ساٹھ مساکین کو پاؤ پاؤ صاع گیہوں ديے تو ضرورہے کہ ان میں ہر ایک کو اور پاؤ پاؤ صاع دے اور اگر ان کی عوض میں اور ساٹھ مساکین کو پاؤ پاؤ صاع ديے تو کفارہ ادا نہ ہوا۔(5) (عالمگيری)
مسئلہ ۲۷: ایک سو بیس مساکین کو ایک وقت کھانا کھلادیا تو کفارہ ادا نہ ہوا بلکہ ضرور ہے کہ ان میں سے ساٹھ کو پھر ایک وقت کھلائے خواہ اُسی دن یاکسی دوسرے دن اور اگر وہ نہ ملیں تو دوسرے ساٹھ مساکین کو دونوں وقت کھلائے۔(6) (درمختار)
مسئلہ ۲۸: اس کے ذمہ دو۲ ظہار تھے خواہ ایک ہی عورت سے دونوں ظہار کیے یا دو عورتوں سے اور دونوں کے کفارہ میں ساٹھ مسکین کو ایک ایک صاع گیہوں دیديے تو صرف ایک کفارہ ادا ہوا اور اگر پہلے نصف نصف صاع ایک کفارہ میں ديے پھر اُنھیں کو نصف نصف صاع دوسرے کفارہ میں ديے تو دونوں ادا ہوگئے۔(7) (عالمگيری)
مسئلہ ۲۹: دو ظہار کے کفاروں میں دو غلام آزاد کر ديے یا چارمہینے کے روزے رکھ ليے یا ایک سو بیس مسکینوں کو