مسئلہ ۲۰: غلام نے اگر اپنی عورت سے ظہار کیا اگرچہ مکاتب ہو یا اُسکا کچھ حصہ آزاد ہو چکا باقی کے ليے سَعایتکرتا ہو(1)یا آزاد نے ظہار کیا مگر بوجہ کم عقلی کے اُس کے تصرفات روک ديے گئے ہوں تو ان سب کے ليے کفارے میں روزے رکھنا معین ہے ان کے ليے غلام آزاد کرنا یا کھانا کھلانا نہیں لہٰذا اگر غلام کے آقانے اُس کی طرف سے غلام آزادکردیا یا کھانا کھلا دیا تو یہ کافی نہیں اگرچہ غلام کی اجازت سے ہوا اور کفارہ کے روزوں سے اُسکا آقا منع نہیں کرسکتا اوراگر غلام نے کفارہ کے روزے ابتک نہیں رکھے اور اب آزاد ہوگيا تو اگر غلام آزاد کرنے پر قدرت ہو تو آزاد کرے ورنہ روزے رکھے۔(2) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۱: روزے رکھنے پر بھی اگر قدرت نہ ہو کہ بیمار ہے اور اچھے ہونے کی امید نہیں یا بہت بوڑھا ہے تو ساٹھ مسکینوں کو دونوں وقت پیٹ بھر کر کھانا کھلائے اور یہ اختیار ہے کہ ایک دم سے ساٹھ مسکینوں کو کھلاوے یا متفرق طور پر، مگر شرط یہ ہے کہ اس اثنا میں روزے پر قدرت حاصل نہ ہو ورنہ کھلانا صدقہ نفل ہوگا اور کفارہ میں روزے رکھنے ہونگے۔ اور اگر ایک وقت ساٹھ کو کھلایا دوسرے وقت ان کے سوا دوسرے ساٹھ کو کھلایا تو ادا نہ ہوا بلکہ ضرور ہے کہ پہلوں یا پچھلوں کو پھر ایک وقت کھلائے۔(3) (درمختار،ردالمحتار، عالمگیری)
مسئلہ ۲۲: شرط یہ ہے کہ جن مسکینوں کو کھانا کھلایا ہواُن میں کوئی نا بالغ غیر مراہق نہ ہو ہاں اگر ایک جوان کی پوری خوراک کا اُسے مالک کر دیا تو کافی ہے۔(4) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۲۳: یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ہر مسکین کو بقدر صدقہ فطر یعنی نصف صاع گیہوں یا ایک صاع جَو یا ان کی قیمت کا مالک کر دیا جائے مگر اباحت کافی نہیں اور اُنھیں لوگوں کو دے سکتے ہیں جنھیں صدقہ فطر دے سکتے ہیں جن کی تفصیل صدقہ فطر کے بیان میں مذکور ہوئی اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ صبح کو کھلاوے اور شام کے ليے قیمت دیدے یا شام کو کھلاوے اور صبح کے کھانے کی قیمت دیدے یا دو ۲ دن صبح کو یا شام کو کھلاوے یا تیس کو کھلائے اور تیس کو دیدے غرض یہ کہ ساٹھ کی تعداد جس طرح چاہے پوری کرے اس کا اختیار ہے یا پاؤ صاع گیہوں اور نصف صاع جو دیدے یا کچھ گیہوں یا جو دے باقی کی قیمت ہر