| بہارِشریعت حصّہ ہشتم (8) |
کرنا ضرور ہے یہ وہ بات ہے جس کی تمہیں نصیحت دی جاتی ہے اور جو کچھ تم کرتے ہو خدا اُس سے خبردار ہے۔ پھر جو غلام آزاد کرنے کی طاقت نہ رکھتا ہو تو لگاتار دو ۲ مہینے کے روزے جماع سے پہلے رکھے پھر جو اس کی بھی استطاعت نہ رکھے تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے یہ اس ليے کہ تم اﷲ (عزوجل) و رسول (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) پر ایمان رکھو اور یہ اﷲ (عزوجل) کی حدیں ہیں اور کافروں کے ليے دردناک عذاب۔
حدیث ۱: ترمذی و ابوداود و ابن ماجہ نے روایت کی کہ سلمہ بن صخر بیاضی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے اپنی زوجہ سے رمضان گزرنے تک کے ليے ظہار کیا تھا اور آدھا رمضان گزرا کہ شب میں اُنھوں نے جماع کر لیا پھر حضور اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کی، ارشاد فرمايا: ''ایک غلام آزاد کرو۔'' عرض کی، مجھے میسر نہیں۔ ارشاد فرمايا: ''تو دو ۲ ماہ کے لگاتار روزے رکھو۔'' عرض کی، اس کی بھی طاقت نہیں۔ ارشاد فرمايا: ''تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلاؤ۔'' عرض کی، میرے پاس اتنا نہیں۔ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے فروہ بن عمرو سے فرمايا: کہ ''وہ زنبیل(1) دیدو کہ مساکین کو کھلائے۔'' (2)مسائل فقہیّہ
مسئلہ ۱: ظہار کرنے والا جماع کا ارادہ کرے تو کفارہ واجب ہے اور اگر یہ چاہے کہ وطی نہ کرے اور عورت اُس پر حرام ہی رہے تو کفارہ واجب نہیں اور اگر ارادہ جماع تھا مگر زوجہ مر گئی تو واجب نہ رہا۔ (3)(عالمگيری)
مسئلہ ۲: ظہار کا کفارہ غلام یا کنیز آزاد کرنا ہے مسلمان ہو یا کافر، بالغ ہو یا نا بالغ یہاں تک کہ اگر دودھ پیتے بچہ کو آزاد کیا کفارہ ادا ہوگيا۔ (4)(عامہ کتب)
مسئلہ ۳: پہلے نصف غلام کو آزاد کیا اور جماع سے پہلے پھر نصف باقی کو آزاد کیا تو کفارہ ادا ہوگيا اور اگر درمیان میں جماع کر لیا تو ادا نہ ہوا اور اگر غلام مشترک (5)ہے اور اس نے اپنا حصہ آزاد کر دیا تو ادا نہ ہوا، اگرچہ یہ مالدار ہو یعنی جب غلام مشترک کو آزاد کرے اور مالدار ہو تو حکم یہ ہے کہ اپنے شریک کو اُس کے حصہ کی قدر دے اور کُل غلام اسکی طرف سے آزادــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 1۔۔۔۔۔۔کھجور کے پتوں سے بنا ہوا ایسا ٹوکرا جس میں پندرہ یا سولہ صاع کھجوریں آجاتی ہیں ۔ 2۔۔۔۔۔۔''جامع الترمذي''،کتاب الطلاق...إلخ، باب ماجاء في کفارۃ الظھار، الحدیث: ۱۲۰۴، ج۲، ص۴۰۸. 3۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق، الباب العاشرفي الکفارۃ، ج۱، ص۵۰۹. 4۔۔۔۔۔۔المرجع السابق، ص۵۰۹،۵۱۰. 5۔۔۔۔۔۔ایسا غلام جس کے مالک دو یا دو سے زیادہ ہوں ۔