| بہارِشریعت حصّہ ہشتم (8) |
تو کفارہ دے اور اگر مدت گزر گئی اور قربت نہ کی تو کفارہ ساقط اور ظہار باطل۔ (1)(جوہرہ)
مسئلہ ۱۹: شوہر کفارہ نہیں دیتا تو عورت کو یہ حق ہے کہ قاضی کے پاس دعویٰ کرے قاضی مجبور کریگا کہ یا کفارہ دیکر قربت کرے یا عورت کو طلاق دے اور اگر کہتا ہے کہ میں نے کفارہ دے دیا ہے تو اُس کا کہنا مان لیں جبکہ اُس کا جھوٹا ہونا معروف نہ ہو۔ (2)(عالمگيری)
مسئلہ ۲۰: ایک عورت سے چند بار ظہار کیا تو اُتنے ہی کفارے دے اگرچہ ایک ہی مجلس میں متعدد بار الفاظ ظہار کہے اور اگر یہ کہتا ہے کہ بار بار لفظ بولنے سے متعدد ظہار مقصود نہ تھے بلکہ تا کید مقصود تھی تو اگر ایک ہی مجلس میں ایسا ہوا مان لیں گے ورنہ نہیں۔ (3)(درمختار)
مسئلہ ۲۱: پورے رجب اور پورے رمضان کے ليے ظہار کیا تو ایک ہی کفارہ واجب ہو گا خواہ رجب میں کفارہ دے یا رمضان میں، شعبان میں نہیں دے سکتا کہ شعبان میں ظہار ہی نہیں۔ یوہیں اگر ظہار کیا اور کسی دن کا استثنا کیا تو اُس دن کفارہ نہیں دے سکتا اُس کے علاوہ جس دن چاہے دے سکتا ہے۔(4) (درمختار)کفّارہ کا بیان
اﷲ عزوجل فرماتا ہے:
( وَ الَّذِیۡنَ یُظٰہِرُوۡنَ مِنۡ نِّسَآئِہِمْ ثُمَّ یَعُوۡدُوۡنَ لِمَا قَالُوۡا فَتَحْرِیۡرُ رَقَبَۃٍ مِّنۡ قَبْلِ اَنۡ یَّتَمَآسَّا ؕ ذٰلِکُمْ تُوۡعَظُوۡنَ بِہٖ ؕ وَ اللہُ بِمَا تَعْمَلُوۡنَ خَبِیۡرٌ ﴿۳﴾فَمَنۡ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ شَہۡرَیۡنِ مُتَتَابِعَیۡنِ مِنۡ قَبْلِ اَنۡ یَّتَمَآسَّا ؕ فَمَنۡ لَّمْ یَسْتَطِعْ فَاِطْعَامُ سِتِّیۡنَ مِسْکِیۡنًا ؕ ذٰلِکَ لِتُؤْمِنُوۡا بِاللہِ وَ رَسُوۡلِہٖ ؕ وَ تِلْکَ حُدُوۡدُ اللہِ ؕ وَ لِلْکٰفِرِیۡنَ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ﴿۴﴾ ) (5)
جو لوگ اپنی عورتوں سے ظہار کریں پھر وہی کرنا چاہیں جس پر یہ بات کہہ چکے تو اُن پر جماع سے پہلے ایک غلام آزاد
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 1۔۔۔۔۔۔''الجوہرۃ النیرۃ''،کتاب الظہار، الجزء الثانی، ص۸۲. 2۔۔۔۔۔۔''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق، الباب التاسع في الظہار، ج۱، ص۵۰۷. 3۔۔۔۔۔۔''الدرالمختار''،کتاب الطلاق، باب الظہار، ج۵، ص۱۳۴. 4۔۔۔۔۔۔ المرجع السابق، ص۱۳۵. 5۔۔۔۔۔۔پ۲۸، المجادلۃ :۳،۴.