ہوگا مگر کفارہ ادانہ ہوگا۔ یوہیں دو ۲ غلاموں میں آدھے آدھے کا مالک ہے اور دونوں کے نصف نصف کو آزاد کیا تو کفا رہ ادا نہ ہوا۔(1)(جوہرہ،عالمگیری)
مسئلہ ۴: آدھا غلام آزاد کیا اور ایک مہینے کے روزے رکھ لیے یا تیس مسکین کو کھانا کھلا دیا تو کفارہ ادانہ ہوا۔ (2) (جوہرہ)
مسئلہ ۵: غلام آزاد کرنے میں شرط یہ ہے کہ کفارہ کی نیت سے آزاد کیا ہو بغیر نیت کفارہ آزاد کرنے سے کفارہ ادا نہ ہوگا اگرچہ آزاد کرنے کی نیت کیا کرے۔ (3)(جوہرہ)
مسئلہ ۶: اسکا قریبی رشتہ دار یعنی وہ کہ اگر ان میں سے ایک مرد ہوتا دوسرا عورت تو نکاح باہم حرام ہوتا مثلاً اس کا بھائی یا باپ یا بیٹا یا چچا یا بھتیجا ایسے رشتہ دار کا جب مالک ہو گا تو آزاد ہو جائیگا خواہ کسی طرح مالک ہو مثلاًاس نے خرید لیا یا کسی نے ہبہ یا تصدق کیا(4) یا وراثت میں ملا پھر ایسا غلام اگر بلا اختیار اسکی مِلک میں آیا مثلاً وراثت میں ملا اور آزاد ہوگيا تو اگرچہ اس نے کفارہ کی نیت کی ادا نہ ہوا اور اگر باختیار خود اپنی ملک میں لایا (مثلاًخریدا) اور جس عمل کے ذریعہ سے ملک میں آیا اُس کے پائے جانے کے وقت (مثلاً خریدتے وقت) کفارہ کی نیت کی تو کفارہ ادا ہوگيا۔(5) (جوہرہ وغیرہا)
مسئلہ ۷: جو غلام گروی یا مدیون ہے اُسے آزاد کیا تو کفارہ ادا ہوگيا۔ یوہیں اگر بھاگا ہوا ہے اور یہ معلوم ہے کہ زندہ ہے تو آزاد کرنے سے کفارہ ادا ہو جائیگا اور اگر بالکل اُس کا پتا نہ معلوم ہو، نہ یہ معلوم کہ زندہ ہے یا مرگیا تو نہ ہوگا۔(6) (عالمگيری)
مسئلہ ۸: اگر غلام میں کسی قسم کا عیب ہے تو اس کی دو۲ صورتیں ہیں،ایک یہ کہ وہ عیب اس قسم کا ہو جس سے جنسِ منفعت فوت ہوتی ہے یعنی دیکھنے، سُننے، بولنے، پکڑنے، چلنے کی اُس کو قدرت نہ ہو یا عاقل نہ ہو تو کفارہ ادا نہ ہوگا اور دوسرے یہ کہ اس حد کا نقصان نہیں تو ہو جائیگا، لہٰذا اتنا بہرا کہ چیخنے سے بھی نہ سُنے یا گونگا یا اندھا یا مجنون کہ کسی وقت اُسکو افاقہ نہ ہوتا ہو یا بوہرا یا وہ بیمار جس کے اچھے ہونے کی اُمید نہ ہو یا جس کے سب دانت گر گئے ہوں اور کھانے سے بالکل عاجزہو یاجس کے