یاسبب مِلک کی طرف اضافت ہوئی اور یہ کافی ہے۔ (1)(درمختار)
مسئلہ ۷: عورت مرد سے ظہار کے الفاظ کہے تو ظہار نہیں بلکہ لغو ہیں۔(2) (جوہرہ)
مسئلہ ۸: عورت کے سر یا چہرہ یا گردن یا شرمگاہ کو محارِم سے تشبیہ دی تو ظہار ہے اور اگر عورت کی پیٹھ یا پیٹ یا ہاتھ یا پاؤں یا ران کو تشبیہ دی تو نہیں۔ یوہیں اگر محارم کے ایسے عضو سے تشبیہ دی جسکی طرف نظر کرنا حرام نہ ہو مثلاً سر یا چہرہ یا ہاتھ یا پاؤں یا بال تو ظہار نہیں اور گھٹنے سے تشبیہ دی تو ہے۔(3) (جوہرہ، خانیہ وغیرہما)
مسئلہ ۹: محارم سے مراد عام ہے نسبی ہوں یا رضاعی یا سُسرالی رشتہ سے لہٰذا ماں بہن پھوپھی لڑکی اور رضاعی ماں اور بہن وغیرہما اور زوجہ کی ماں اور لڑکی جبکہ زوجہ مدخولہ ہواور مدخولہ نہ ہو تو اُس کی لڑکی سے تشبیہ دینے میں ظہار نہیں کہ وہ محار م میں نہیں۔ یوہیں جس عورت سے اُس کے باپ یا بیٹے نے معاذاﷲ زنا کیا ہے اُس سے تشبیہ دی یا جس عورت سے اس نے زنا کیا ہے اُس کی ماں یا لڑکی سے تشبیہ دی تو ظہار ہے۔(4) (عالمگيری)
مسئلہ ۱۰: محارم کی پیٹھ یا پیٹ یا ران سے تشبیہ دی یا کہا میں نے تجھ سے ظہار کیا تو یہ الفاظ صریح ہیں ان میں نیت کی کچھ حاجت نہیں کچھ بھی نیت نہ ہو یا طلاق کی نیت ہو یا اکرام کی نیت ہو، ہر حالت میں ظہار ہی ہے اور اگر یہ کہتا ہے کہ مقصود جھوٹی خبر دینا تھا یا زمانہ گزشتہ کی خبر دینا ہے تو قضائً تصدیق نہ کرینگے اور عورت بھی تصدیق نہیں کر سکتی۔ (5)(درمختار، عالمگیری)
مسئلہ ۱۱: عورت کو ماں یا بیٹی یا بہن کہا تو ظہار نہیں، مگر ایسا کہنا مکروہ ہے۔ (6)(عالمگيری)
مسئلہ ۱۲: عورت سے کہا تو مجھ پر میری ماں کی مثل ہے تو نیت دریافت کی جائے اگر اُس کے اِعزاز (7)کے ليے کہا تو کچھ نہیں اور طلاق کی نیت ہے تو بائن طلاق واقع ہوگی اور ظہار کی نیت ہے تو ظہار ہے اور تحریم (8)کی نیت ہے تو ایلا ہے اور کچھ