ماں کی مثل ہے یا تیرا سر یا تیری گردن یا تیرا نصف میری ماں کی پیٹھ کی مثل ہے۔ (1)
مسئلہ ۲: ظہار کے ليے اسلام و عقل و بلوغ شرط ہے کافر نے اگر کہا تو ظہار نہ ہوا یعنی اگر کہنے کے بعد مشرف با سلام ہوا تواُس پر کفارہ لازم نہیں۔ یوہیں نا بالغ و مجنون یا بوہرے یا مدہوش یا سر سام و برسام کے بیمار نے یا بیہوش یا سونے والے نے ظہار کیا تو ظہار نہ ہوا اور ہنسی مذاق میں یا نشہ میں یا مجبور کیا گیا اس حالت میں یا زبان سے غلطی میں ظہار کا لفظ نکل گیا تو ظہار ہے۔ (2)(درمختار، عالمگيری)
مسئلہ ۳: زوجہ کی جانب سے کوئی شرط نہیں، آزاد ہو یا باندی، مدبرہ یا مکاتبہ یا ام ولد، مدخولہ ہو یا غیر مدخولہ، مسلمہ ہو یا کتابیہ، نا بالغہ ہو یا بالغہ، بلکہ اگر عورت غیر کتا بیہ ہے اور اُسکا شوہر اسلام لایا مگر ابھی عورت پر اسلام پیش نہیں کیا گیا تھا کہ شوہر نے ظہار کیا تو ظہار ہوگيا عورت مسلمان ہوئی تو شوہر پرکفارہ دینا ہو گا۔(3) (عالمگیری ، ردالمحتار)
مسئلہ ۴: اپنی باندی سے ظہار نہیں ہو سکتا موطؤہ ہو یا غیر موطؤہ(4)۔ یوہیں اگر کسی عورت سے بغیر اذن ليے نکاح کیا اور ظہار کیا پھر عورت نے نکاح کو جائز کر دیا تو ظہار نہ ہواکہ وقتِ ظہار وہ زوجہ نہ تھی۔ یوہیں جس عورت کو طلاق بائن دے چکا ہے یا ظہار کو کسی شرط پر معلق کیا اور وہ شرط اُس وقت پائی گئی کہ عورت کو بائن طلاق دیدی تو ان صورتوں میں ظہارنہیں۔(5)(ردالمحتار)
مسئلہ۵: جس عورت سے تشبیہ دی اگر اُس کی حرمت عارضی ہے ہمیشہ کے ليے نہیں تو ظہار نہیں مثلاً زوجہ کی بہن یا جس کو تین طلاقیں دی ہیں یا مجوسی یا بُت پرست عورت کہ یہ مسلمان یا کتابیہ ہوسکتی ہیں اور اُنکی حرمت دائمی نہ ہو نا ظاہر۔(6) (درمختار)
مسئلہ ۶: اجنبیہ سے کہا کہ اگر تو میری عورت ہو یا میں تجھ سے نکاح کروں تو تُو ایسی ہے تو ظہار ہو جائیگا کہ ملک