Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ ہشتم (8)
205 - 282
    مسئلہ ۵۷: نا بالغہ نے اپنا خلع خود کرایا اور سمجھ وال ہے تو طلاق واقع ہو جائے گی مگر مال واجب نہ ہوگا اور اگر مال کے بدلے طلاق دلوائی تو طلاق رجعی ہوگی۔(1) (عالمگیری، ردالمحتار) 

    مسئلہ ۵۸: نابالغ لڑکا نہ خود خلع کر سکتا ہے، نہ اُس کی طرف سے اُس کا باپ۔(2) (ردالمحتار) 

    مسئلہ ۵۹: عورت نے اپنے مرض الموت میں خلع کرایا اور عدت میں مر گئی تو تہائی مال اور میراث اور بدل خلع ان تینوں میں جو کم ہے شوہر وہ پائیگا۔ اور اگر اُس بدلِ خلع کے علاوہ کوئی مال ہی نہ ہو تو اُس کی تہائی اور میراث میں جو کم ہے وہ پائیگا۔ اور اگر عدت کے بعد مری تو بدلِ خلع لے لیگا جبکہ تہائی مال کے اندر ہو اور عورت غیر مدخولہ ہے اور مرض الموت میں پور ے مہرکے بدلے خلع ہوا تو نصف مہر بوجہ طلاق کے ساقط ہے رہا نصف اب اگر عورت کے اور مال نہیں ہے تو اس نصف کی چوتہائی کا شوہر حقدار ہے۔(3) (عالمگیری، ردالمحتار)
ظہار کا بیان
    اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے:
    ( اَلَّذِیْنَ یُظٰھِرُوْنَ مِنْکُمْ مِّنْ نِّسَآئِھِمْ مَّا ھُنَّ اُمَّھٰتِھِمْ ط اِنْ اُمَّھٰـتُھُمْ اِلَّاالّٰـئیْ وَلَدْنَھُمْ ط وَاِنَّھُمْ لَیَقُوْلُوْنَ مُنْکَرًا مِّنَ الْقَوْلِ وَزُوْرًا طوَاِنَّ اللہَ لَعَفُوٌّ غَفُوْرٌ ) (4)
    جو لوگ تم میں سے اپنی عورتوں سے ظہار کرتے ہیں (اُنھیں ماں کی مثل کہہ دیتے) وہ اُن کی مائیں نہیں، اُنکی مائیں تو وہی ہیں جن سے پیدا ہوئے اور وہ بیشک بُری اور نری جھوٹی بات کہتے ہیں اور بیشک اﷲ (عزوجل) ضرور معاف کرنے والا، بخشنے والا ہے۔
(مسائل فقہیّہ)
    مسئلہ ۱: ظہار کے یہ معنے ہیں کہ اپنی زوجہ یا اُس کے کسی جزوِ شائع یا ایسے جز کو جو کُل سے تعبیر کیا جاتا ہو ایسی عورت سے تشبیہ دینا جو اس پر ہمیشہ کے ليے حرام ہو یا اسکے کسی ایسے عضو سے تشبیہ دینا جس کی طرف دیکھنا حرام ہو مثلاً کہا تو مجھ پر میری
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق، الباب الثامن في الخلع وما في حکمہ، ج۱، ص۵۰۴.

و''رد المحتار''،کتاب الطلاق،باب الخلع،مطلب: فی خلع الصغیرۃ،ج۵،ص۱۱۲،۱۱۳.

2۔۔۔۔۔۔''ردالمحتار''، کتاب الطلاق، باب الخلع، مطلب : فی خلع الصغیرۃ،ج۵، ص۱۱۳.

3۔۔۔۔۔۔''الفتاوی الہندیۃ''،کتاب الطلاق،الباب الثامن فی الخلع ومافی حکمہ،الفصل الثالث،ج۱،ص۵۰۵.

و''ردالمحتار''، کتاب الطلاق، باب الخلع، مطلب : فی خلع الصغیرۃ،ج۵،ص۱۱۷.

4۔۔۔۔۔۔پ ۲۸، المجادلۃ :۲.
Flag Counter