مدخولہ ہے تو جائز نہیں اور غیر مدخولہ ہے تو جائز ہے۔(1) (عالمگيری)
مسئلہ ۵۴: عورت نے کسی کو خلع کے ليے وکیل کیا پھر رجوع کر گئی اور وکیل کو رجوع کا حال معلوم نہ ہوا تو رجوع صحیح نہیں اور اگر قاصد بھیجا تھا اور اُس کے پہنچنے سے قبل رجوع کر گئی تو رجوع صحیح ہے اگرچہ قاصد کو اس کی اطلاع نہ ہوئی۔(2) (عالمگيری)
مسئلہ ۵۵: لوگوں نے شوہر سے کہا تیری عورت نے خلع کا ہمیں وکیل بنایا شوہر نے دوہزار پر خلع کیا عورت وکیل بنانے سے انکار کرتی ہے تو اگر وہ لوگ مال کے ضامن ہوئے تھے تو طلاق ہوگئی اور بدل خلع اُنھیں دینا ہوگا اور اگر ضامن نہ ہوئے تھے اور زوج مُدَّعِی ہے(3) کہ عورت نے اُنھیں وکیل کیا تھا تو طلاق ہو گئی مگر مال واجب نہیں اور اگر زوج مدعی وکالت نہ ہو تو طلاق نہ ہوگی۔ (4)(عالمگيری)
مسئلہ ۵۶: باپ نے لڑکی کا اُس کے شوہر سے خلع کرایا اگر لڑکی بالغہ ہے اور باپ بدل خلع کا ضامن ہوا(5) تو خلع صحیح ہے اور اگر مہر پر خلع ہوا اور لڑکی نے اذن دیا تھاجب بھی صحیح ہے اور اگر بغیر اذن (6)ہوا اور خبر پہنچنے پر جائز کر دیا جب بھی ہوگيا اور اگر جائز نہ کیا نہ باپ نے مَہر کی ضمانت کی تو نہ ہوا اور مہر کی ضمانت کی ہے تو ہوگیا۔ پھر جب لڑکی کو خبر پہنچی اُس نے جائز کر دیا تو شوہر مہر سے بری ہے اور جائز نہ کیا تو عورت شوہر سے مَہر لے گی اور شوہر اُس کے باپ سے۔ اور اگر نا بالغہ لڑکی کا اُس لڑکی کے مال پر خلع کرایا تو صحیح یہ ہے کہ طلاق ہو جائے گی مگر نہ تومَہر ساقط ہوگا نہ لڑکی پر مال واجب ہوگا اور اگر ہزار روپے پر نا بالغہ کا خلع ہوا اور باپ نے ضمانت کی تو ہوگيا اور روپے باپ کو دینے ہوں گے اور اگر باپ نے یہ شرط کی کہ بدل خلع لڑکی دیگی تو اگر لڑکی سمجھ وال ہے یہ سمجھتی ہے کہ خلع نکاح سے جدا کر دیتا ہے تو اُس کے قبول پر موقوف ہے قبول کرلے گی تو طلاق واقع ہو جائے گی مگر مال واجب نہ ہو گا اور اگر نا بالغہ کی ماں نے اپنے مال سے خلع کرایا یا ضامن ہوئی تو خلع ہو جائیگا اور لڑکی کے مال سے کرایا تو طلاق نہ ہوگی۔ یوہیں اگر اجنبی نے خلع کر ایا تو یہی حکم ہے۔ (7)(عالمگیری، درمختار وغیرہما)