مسئلہ ۴۸: عورت نے خلع چاہا پھر یہ دعویٰ کیا کہ خلع سے پہلے بائن طلاق دے چکا تھا اور اس کے گواہ پیش کیے تو گواہ مقبول ہیں اور بدلِ خلع واپس کیا جائے۔(1) (عالمگيری)
مسئلہ ۴۹: شوہر دعویٰ کرتا ہے کہ اتنے پر خلع ہوا عورت کہتی ہے خلع ہوا ہی نہیں تو طلاق بائن واقع ہوگئی رہا مال اُس میں عورت کا قول معتبر ہے کہ وہ منکر ہے اور اگر عورت خلع کا دعویٰ کرتی ہے اور شوہر منکر ہے تو طلاق واقع نہ ہوگی۔ (2)(درمختار)
مسئلہ ۵۰: زن و شو میں (3) اختلاف ہوا عورت کہتی ہے تین بار خلع ہو چکا اور مرد کہتا ہے کہ دوبار اگر یہ اختلاف نکاح ہو جانے کے بعد ہوا اور عورت کا مطلب یہ ہے کہ نکاح صحیح نہ ہوا اس واسطے کہ تین طلاقیں ہو چکیں اب بغیر حلالہ نکاح نہیں ہو سکتا اور مرد کی غرض یہ ہے کہ نکاح صحیح ہوگيا اس واسطے کہ دوہی طلاقیں ہوئی ہیں تو اس صورت میں مرد کا قول معتبر ہے اور اگر نکاح سے پہلے عدت میں یا بعد عدت یہ اختلاف ہوا تو اس صورت میں نکاح کر نا جائز نہیں دوسرے لوگوں کو بھی یہ جائز نہیں کہ عورت کو نکاح پر آمادہ کریں نہ نکاح ہونے دیں۔(4) (عالمگیری)
مسئلہ ۵۱: مرد نے کسی سے کہا کہ تو میری عورت سے خلع کر تو اُس کو یہ اختیار نہیں کہ بغیر مال خلع کرے۔ (5) (عالمگيری)
مسئلہ ۵۲: عورت نے کسی کو ہزار روپے پر خلع کے ليے وکیل بنایا تو اگر وکیل نے بدل خلع مطلق رکھا مثلاً یہ کہا کہ ہزار روپے پر خلع کریا اس ہزار پر یا وکیل نے اپنی طرف اضافت(6) کی مثلاً یہ کہا کہ میرے مال سے ہزار روپے پر یا کہا ہزار روپے پر اور میں ہزار روپے کا ضامن ہوں تو دونوں صورتوں میں وکیل کے قبول کرنے سے خلع ہو جائیگا پھر اگر روپے مطلق ہیں جب تو شوہر عورت سے لے گا ورنہ وکیل سے بدل خلع کا مطالبہ کریگا عورت سے نہیں پھر وکیل عورت سے لے گا اور اگر وکیل کے اسباب کے بدلے خلع کیا اور اسباب ہلاک ہوگئے تو وکیل اُن کی قیمت ضمان دے۔(7) (عالمگيری)
مسئلہ ۵۳: مرد نے کسی سے کہا کہ تو میری عورت کو طلاق دیدے اُس نے مال پر خلع کیا یا مال پر طلاق دی اور عورت