Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ ہشتم (8)
202 - 282
قبول نہ کیا تو کچھ نہیں اور قبول کیا تو تین طلاقیں ہزار کے بدلے میں ہوئیں۔ (1)(عالمگیری) 

    مسئلہ ۴۲: عورت سے کہا تجھ پر تین طلاقیں ہیں جب تو مجھے ہزار روپے دے تو فقط اس کہنے سے طلاق واقع نہ ہوگی بلکہ جب عورت ہزار روپے دے گی یعنی شوہر کے سامنے لاکر رکھ دیگی اُس وقت طلاقیں واقع ہونگی اگرچہ شوہر لینے سے انکار کرے اور شوہر روپے لینے پر مجبور نہیں کیا جائیگا۔(2) (عالمگیری) 

    مسئلہ ۴۳: دونوں راہ چل رہے ہیں اور خلع کیا اگر ہر ایک کا کلام دوسرے کے کلام سے متصل ہے تو خلع صحیح ہے ورنہ نہیں اور اِس صورت میں طلاق بھی واقع نہیں ہوگی۔(3) (عالمگيری)

    مسئلہ ۴۴: عورت کہتی ہے میں نے ہزار کے بدلے تین طلاقوں کو کہا تھا اور تونے ایک دی اور شوہر کہتا ہے تو نے ایک ہی کو کہا تھا تو اگر شوہر گواہ پیش کرے فبہا (4) ورنہ عورت کا قول معتبر ہے۔(5) (عالمگيری) 

    مسئلہ ۴۵: شوہر کہتا ہے میں نے ہزارروپے پر تجھے طلاق دی تو نے قبول نہ کیا عورت کہتی ہے میں نے قبول کیا تھا تو قسم کے ساتھ شوہر کا قول معتبر ہے اور اگر شوہر کہتا ہے میں نے ہزار روپے پر تیرے ہاتھ طلاق بیچی تو نے قبول نہ کی عورت کہتی ہے میں نے قبول کی تھی تو عورت کا قول معتبر ہے۔ (6)(درمختار) 

    مسئلہ ۴۶: عورت کہتی ہے میں نے سوروپے میں طلاق دینے کو کہا تھا شوہر کہتا ہے نہیں بلکہ ہزار کے بدلے تو عورت کا قول معتبر ہے اور دونوں نے گواہ پیش کیے تو شوہر کے گواہ قبول کیے جائیں۔ یوہیں اگر عورت کہتی ہے بغیر کسی بدلے کے خلع ہوا اور شوہر کہتا ہے نہیں بلکہ ہزار روپے کے بدلے میں تو عورت کا قول معتبر ہے اور گواہ شوہر کے مقبول۔ (7)(عالمگيری)

    مسئلہ ۴۷: عورت کہتی ہے میں نے ہزار کے بدلے میں تین طلاق کو کہا تھا تونے ایک دی شوہر کہتا ہے میں نے تین دیں اگر اُسی مجلس کی بات ہے تو شوہر کا قول معتبر ہے اور وہ مجلس نہ ہو تو عورت کا اور عورت پر ہزار کی تہائی واجب مگر عدت پوری نہیں ہوئی ہے تو تین طلاقیں ہو گئیں۔(8) (عالمگيری)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق، الباب الثامن في الخلع وما في حکمہ، الفصل الثالث،ج۱، ص۴۹۶.

2۔۔۔۔۔۔ المرجع السابق،ص۴۹۷.            3۔۔۔۔۔۔المرجع السابق، ص۴۹۹. 

4۔۔۔۔۔۔توٹھیک ہے۔

5۔۔۔۔۔۔''الفتاوی الھنديۃ''، المرجع السابق،ص۴۹۹. 

6۔۔۔۔۔۔''الدرالمختار''، کتاب الطلاق، باب الخلع، ج۵، ص۱۰۱. 

7۔۔۔۔۔۔''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق، الباب الثامن في الخلع وما في حکمہ، الفصل الثالث ، ج۱، ص۴۹۹.

8۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الہندیۃ''،کتاب الطلاق،الباب الثامن فی الخلع ومافی حکمہ، الفصل الثالث، ج۱،ص۴۹۹.
Flag Counter