نے خریدا، اُٹھ جا، وہ چلی گئی تو طلاق واقع نہ ہوئی مگر احتیاط یہ ہے کہ اگر پہلے دوطلاقیں نہ دے چکا ہو تو تجدیدِ نکاح کرے۔(1)(خانیہ)
مسئلہ ۳۱: عورت سے کہا میں نے تیرے ہاتھ ایک طلاق بیچی اور عوض کا ذکر نہ کیا عورت نے کہا میں نے خریدی تو رجعی پڑے گی اور اگر یہ کہا کہ میں نے تجھے تیرے ہاتھ بیچا اور عورت نے کہا خریدا تو بائن پڑیگی۔(2) (خانیہ)
مسئلہ ۳۲: عورت سے کہا میں نے تیرے ہاتھ تین ہزار کو طلا ق بیچی اس کو تین بار کہا آخر میں عورت نے کہا میں نے خریدی پھر شوہر یہ کہتا ہے کہ میں نے تکرار کے ارادہ سے تین بار کہا تھا تو قضاءً اُس کا قول معتبر نہیں اور تین طلاقیں واقع ہو گئیں اور عورت کو صرف تین ہزار دینے ہونگے نو ۹ ہزار نہیں کہ پہلی طلاق تین ہزار کے عوض ہوئی اور اب دوسری اور تیسری پر مال واجب نہیں ہوسکتا اور چونکہ صریح ہیں، لہٰذا بائن کو لاحق ہونگی۔(3) (خانیہ)
مسئلہ ۳۳: مال کے بدلے میں طلاق دی اور عورت نے قبول کر لیا تو مال واجب ہوگا اور طلاق بائن واقع ہوگی۔(4)(عالمگيری)
مسئلہ ۳۴ــ: عورت نے کہا ہزار روپے کے عوض مجھے تین طلاقیں دیدے شوہر نے اُسی مجلس میں ایک طلاق دی تو بائن واقع ہوئی اور ہزار کی تہائی کا مستحق ہے اور مجلس سے اُٹھ گیا پھر طلاق دی تو بلا معاوضہ واقع ہوگی۔ اوراگر عورت کے اس کہنے سے پہلے دو۲طلاقیں دے چکا تھا اور اب ایک دی تو پورے ہزار پائیگا۔ اور اگر عورت نے کہا تھا کہ ہزار روپے پر تین طلاقیں دے اور ایک دی تو رجعی ہوئی اور اگر اس صورت میں مجلس میں تین طلاقیں متفرق کرکے دیں تو ہزار پائے گا اور تین مجلسوں میں دیں تو کچھ نہیں پائیگا۔ (5)(درمختار ، ردالمحتار)
مسئلہ ۳۵: شوہر نے عورت سے کہا ہزار کے عوض یا ہزار روپے پر تو اپنے کو تین طلاقیں دیدے عورت نے ایک طلاق دی تو واقع نہ ہوئی۔ (6)(درمختار)
مسئلہ ۳۶ : عورت سے کہا ہزار کے عوض یا ہزار روپے پر تجھ کو طلاق ہے عورت نے اُسی مجلس میں قبول کر لیا تو ہزار