مسئلہ ۲۵: عورت نے شوہر سے کہا ہزارروپے پر مجھ سے خلع کر شوہر نے کہا تجھ کو طلاق ہے تو یہ اُس کا جواب سمجھا جائیگا۔ ہاں اگر شوہر کہے کہ میں نے جواب کی نیت سے نہ کہا تھا تو اُس کا قول مان لیا جا ئیگا اور طلاق مفت واقع ہوگی۔ اور بہتر یہ ہے کہ پہلے ہی شوہر سے دریافت کر لیا جائے۔ یوہیں اگر عورت کہتی ہے میں نے خلع طلب کیا تھا اور شوہر کہتا ہے میں نے تجھے طلاق دی تھی تو شوہرسے دریافت کریں اگر اُس نے جواب میں کہا تھا تو خلع ہے ورنہ طلاق۔(1) (خانیہ)
مسئلہ ۲۶: خرید وفروخت کے لفظ سے بھی خلع ہوتا ہے مثلاً مرد نے کہا میں نے تیرا امر یا تیری طلاق تیرے ہاتھ اتنے کو بيچی عورت نے اُسی مجلس میں کہا میں نے قبول کی طلاق واقع ہو گئی۔ یوہیں اگر مہر کے بدلے میں بیچی اور اُس نے قبول کی ہاں اگر اُس کا مہر شوہر پر باقی نہ تھا اور یہ بات شوہر کو معلوم تھی پھر مہر کے بدلے بیچی تو طلاق رجعی ہوگی۔(2) (خانیہ)
مسئلہ ۲۷: لوگوں نے عورت سے کہا تو نے اپنے نفس کو مہرو نفقہ عدّت (3) کے بدلے خریدا عورت نے کہا ہاں خریدا پھر شوہر سے کہا تو نے بیچا اُس نے کہا ہاں تو خلع ہوگيا اور شوہر تما م حقوق سے بَری ہوگيا۔ اور اگر خلع کرانے کے ليے لوگ جمع ہوئے اور الفاظ مذکورہ دونوں سے کہلائے اب شوہر کہتا ہے میرے خیال میں یہ تھا کہ کسی مال کی خرید و فروخت ہورہی ہے جب بھی طلاق کا حکم دیں گے۔(4) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۸: لفظ بیع سے خلع ہو تو اُس سے عورت کے حقوق ساقط نہ ہوں گے جب تک یہ ذکر نہ ہو کہ اُن حقوق کے بدلے بیچا۔(5) (خانیہ)
مسئلہ ۲۹: شوہر نے عورت سے کہا تو نے اپنے مہر کے بدلے مجھ سے تین طلاقیں خریدیں عورت نے کہا خریدیں تو طلاق واقع نہ ہوگی جب تک مرد اس کے بعد یہ نہ کہے کہ میں نے بیچیں اور اگر شوہر نے پہلے یہ لفظ کہے کہ مہر کے بدلے مجھ سے تین طلاقیں خریداور عورت نے کہا خریدیں تو واقع ہوگئیں، اگرچہ شوہر نے بعد میں بیچنے کا لفظ نہ کہا۔ (6)(خانیہ)
مسئلہ ۳۰: عورت نے شوہر سے کہا میں نے اپنا مہر اور نفقہ عدّت تیرے ہاتھ بیچا تونے خریدا، شوہر نے کہا میں