میں ایک ہی روپیہ ہے، جب بھی دو دے۔
مسئلہ ۲۱: اگر یہ کہا کہ اِس گھر میں یا اس صندوق میں جو مال یا روپے ہیں اُن کے بدلے میں خلع کر اور حقیقتہً ان میں کچھ نہ تھا تو یہ بھی اُسی کے مثل ہے کہ ہاتھ میں کچھ نہ تھا۔ یوہیں اگر یہ کہا کہ اس جاریہ(1) یا بکری کے پیٹ میں جو ہے اُس کے بدلے میں اور کمتر مدت حمل میں نہ جنی تو مفت طلاق واقع ہوگئی اور کمتر مدت حمل میں جنی تو وہ بچہ خلع کے بدلے ملے گا۔ کمتر مدت حمل عورت میں چھ مہینے ہے اور بکری میں چار مہینے اور دوسرے چوپایوں میں بھی وہی چھ ۶ مہینے۔ یوہیں اگر کہا اس درخت میں جو پھل ہیں اُن کے بدلے اور درخت میں پھل نہیں تو مہر واپس کرنا ہوگا۔(2) (درمختار)
مسئلہ ۲۲: کوئی جانور گھوڑا خچر بیل وغیرہ بدل خلع قرار دیا اور اُس کی صفت بھی بیان کر دی تو اوسط (3) درجہ کا دینا واجب آئیگا اور عورت کو یہ بھی اختیار ہے کہ اُس کی قیمت دیدے اور جانور کی صفت نہ بیان کی ہو تو جو کچھ مہر میں لے چکی ہے وہ واپس کرے۔(4) (عالمگيری)
مسئلہ ۲۳: عورت سے کہا میں نے تجھ سے خلع کیا عورت نے کہا میں نے قبول کیا تو اگر وہ لفظ شوہر نے بہ نیت طلاق کہا تھا طلاق بائن واقع ہوگئی اور مہر ساقط نہ ہوگابلکہ اگر عورت نے قبول نہ کیا ہو جب بھی یہی حکم ہے اور اگر شوہر یہ کہتا ہے کہ میں نے طلاق کی نیت سے نہ کہا تھا تو طلاق واقع نہ ہوگی جب تک عورت قبول نہ کرے۔ اور اگر یہ کہا تھا کہ فلاں چیز کے بدلے میں نے تجھ سے خلع کیا تو جب تک عورت قبول نہ کرے گی طلاق واقع نہ ہوگی اور عورت کے قبول کرنے کے بعد اگر شوہر کہے کہ میری مراد طلاق نہ تھی تو اُس کی بات نہ مانی جائے۔(5) (خانیہ وغیرہ)
مسئلہ ۲۴: بھاگے ہوئے غلام کے بدلے میں خلع کیا اور عورت نے یہ شرط لگادی کہ میں اُس کی ضامن نہیں یعنی اگر مل گیا تو دیدوں گی اور نہ ملا تو اس کا تاوان میرے ذمّہ نہیں تو خلع صحیح ہے اور شرط باطل یعنی اگر نہ ملا تو عورت اُس کی قیمت دے اور اگر یہ شرط لگائی کہ اگر اُس میں کوئی عیب ہو تو میں بَری ہوں تو شرط صحیح ہے۔(6) (درمختار، ردالمحتار) جانور گم شدہ کے بدلے میں ہو جب بھی یہی حکم ہے۔