چاہیے تو اُس سے کچھ نہیں لے سکتا ہے خلع کی صورت میں طلاق بائن ہوگی اور طلاق کی صورت میں رجعی۔(1) (خانیہ)
مسئلہ ۱۵: یوں خلع ہوا کہ جو کچھ شوہر سے لیا ہے واپس کرے اور عورت نے جو کچھ لیا تھا فروخت کر ڈالا یاہبہ کر کے قبضہ دلا دیا کہ وہ چیز شوہر کو واپس نہیں کر سکتی تو اگر وہ چیز قیمتی ہے تو اُس کی قیمت دے اور مثلی ہے تو اُس کی مثل۔ (2)(خانیہ)
مسئلہ ۱۶: عورت کو طلاق بائن دے کر پھر اُس سے نکاح کیا پھر مہر پر خلع ہوا تو دوسرا مہر ساقط ہوگيا پہلا نہیں۔ (3)(جوہرہ نیرہ)
مسئلہ ۱۷: بغیر مہرنکاح ہوا تھا اور دخول سے پہلے خلع ہوا تو متعہ (4)ساقط اور اگر عورت نے مال معین پر خلع کیا اس کے بعد بدل خلع میں زیادتی کی (5)تو یہ زیا دتی باطل ہے۔ (6)(عالمگيری)
مسئلہ ۱۸: خلع اس پر ہوا کہ کسی عورت سے زوجہ اپنی طرف سے نکاح کرا دے اور اُسکا مہر زوجہ دے تو زوجہ پر صرف وہ مہر واپس کرنا ہوگا جو زوج سے لے چکی ہے اور کچھ نہیں۔ (7)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۹: شراب وخنزیر و مردار وغیرہ ایسی چیز پر خلع ہوا جو مال نہیں تو طلاق بائن پڑگئی اور عورت پر کچھ واجب نہیں اور اگر ان چیزوں کے بدلے میں طلاق دی تو رجعی واقع ہوئی۔ یوہیں اگر عورت نے یہ کہا میرے ہاتھ میں جو کچھ ہے اُس کے بدلے میں خلع کر اور ہا تھ میں کچھ نہ تھا تو کچھ واجب نہیں اور اگر یوں کہا کہ اُس مال کے بدلے میں جو میرے ہاتھ میں ہے اور ہاتھ میں کچھ نہ ہو تو اگر مہر لے چکی ہے تو واپس کرے ورنہ مہر ساقط ہو جائیگا اور اس کے علاوہ کچھ دینا نہیں پڑیگا۔ یوہیں اگر شوہر نے کہا میں نے خلع کیا اُس کے بدلے میں جو میرے ہاتھ میں ہے اور ہاتھ میں کچھ نہ ہو تو کچھ نہیں اور ہاتھ میں جواہرات ہوں تو عورت پر دینا لازم ہو گااگرچہ عورت کو یہ معلوم نہ تھا کہ اُس کے ہاتھ میں کیا ہے۔ (8)(درمختار، جوہرہ)
مسئلہ ۲۰: میرے ہاتھ میں جو روپے ہیں اُن کے بدلے میں خلع کر اور ہاتھ میں کچھ نہیں تو تین روپے دینے ہوں گے۔(9)(درمختار وغیرہ) مگر اُردو میں چونکہ جمع دوپر بھی بولتے ہیں لہٰذا دوہی روپے لازم ہوں گے اور صورت مذکور ہ میں اگر ہاتھ