Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ ہشتم (8)
194 - 282
    حدیث ۱: صحیح بخاری و صحیح مسلم میں حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنہما سے مروی کہ ثا بت بن قیس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی زوجہ نے حضور اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کی، کہ یا رسول اﷲ! (عزوجل و صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) ثابت بن قیس کے اخلاق و دین کی نسبت مجھے کچھ کلام نہیں (یعنی اُن کے اخلاق بھی اچھے ہیں اور دیندار بھی ہیں) مگر اسلام میں کفران نعمت کو میں پسند نہیں کرتی (یعنی بوجہ خوبصورت نہ ہونے کے میر ی طبیعت ان کی طرف مائل نہیں) ارشار فرمايا: ''اُس کا باغ (جو مہر میں تجھ کو دیا ہے) تو واپس کر دیگی؟'' عرض کی، ہاں۔ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے ثابت بن قیس سے فرمايا: ''باغ لے لو اور طلاق دیدو۔'' (1)

    مسئلہ ۱: مال کے بدلے میں نکاح زائل کرنے کو خلع کہتے ہیں عورت کا قبول کرنا شرط ہے بغیر اُس کے قبول کیے خلع نہیں ہو سکتا اور اس کے الفاظ معین ہیں ان کے علاوہ اور لفظوں سے نہ ہو گا۔ 

    مسئلہ ۲: اگر زوج و زوجہ میں نا اتفاقی رہتی ہو اور یہ اندیشہ ہو کہ احکام شرعیہ کی پابندی نہ کرسکیں گے تو خلع میں مضایقہ نہیں اور جب خلع کر لیں تو طلاق بائن واقع ہو جائے گی اور جو مال ٹھہرا ہے عورت پر اُس کا دینا لازم ہے۔ (2)(ہدایہ) 

    مسئلہ ۳: اگر شوہر کی طرف سے زیادتی ہو تو خلع پر مطلقاً عوض لینا مکروہ ہے اور اگر عورت کی طرف سے ہو تو جتنا مہر میں دیا ہے اُس سے زیا دہ لینا مکروہ پھر بھی اگر زیادہ لے لے گا تو قضاءً جائز ہے۔(3) (عالمگيری) 

    مسئلہ ۴: جو چیز مہر ہو سکتی ہے وہ بدل خلع بھی ہو سکتی ہے اور جو چیز مہرنہیں ہو سکتی وہ بھی بدل خلع ہو سکتی ہے مثلاً دس درہم سے کم کو بدل خلع کر سکتے ہیں مگر مہر نہیں کر سکتے۔ (4)(درمختار) 

    مسئلہ ۵: خلع شوہر کے حق میں طلاق کو عورت کے قبول کرنے پر معلق کرنا ہے کہ عورت نے اگر مال دینا قبول کر لیا تو طلاق بائن ہو جائے گی لہٰذا اگر شوہر نے خلع کے الفاظ کہے اور عورت نے ابھی قبول نہیں کیا تو شوہر کو رجوع کا اختیار نہیں نہ شوہر کو شرط خیار حاصل اور نہ شوہر کی مجلس بدلنے سے خلع باطل۔ (5)(خانیہ) 

    مسئلہ ۶: خلع عورت کی جانب میں اپنے کو مال کے بدلے میں چھڑانا ہے تو اگر عورت کی جانب سے ابتدا ہوئی مگر
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔''صحیح البخاري''، کتاب الطلاق، باب الخلع وکیف الطلاق فیہ، الحدیث: ۵۲۷۳،ج۳، ص۴۸۷. 

2۔۔۔۔۔۔ ''الھدایۃ''، کتاب الطلاق، باب الخلع، ج۲، ص۲۶۱.

3۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق، الباب الثامن في الخلع وما في حکمہ، الفصل الاول، ج۱، ص۴۸۸.

4۔۔۔۔۔۔ ''الدرالمختار''، کتاب الطلاق، باب الخلع، ج۵، ص۸۹. 

5۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الخانیۃ''، کتاب الطلاق، باب الخلع، ج۱، ص۲۵۶.
Flag Counter