Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ ہشتم (8)
193 - 282
    مسئلہ ۵۱: عورت سے کہا تو مجھ پر حرام ہے اس لفظ سے ایلا کی نیت کی تو ایلا ہے اور ظہار کی ،تو ظہار ورنہ طلاق بائن اور تین کی نیت کی تو تین۔ اور اگر عورت نے کہا کہ میں تجھ پر حرام ہوں تو یمین ہے شوہر نے زبر دستی یا اُس کی خوشی سے جماع کیا تو عورت پرکفارہ لازم ہے۔ (1)(درمختار، ردالمحتار) 

    مسئلہ ۵۲: اگر شوہر نے کہا تو مجھ پر مثل مُردار یا گوشتِ خنزیر یا خون یا شراب کے ہے اگر اس سے جھوٹ مقصود ہے تو جھوٹ ہے اور حرام کرنا مقصود ہے تو ایلا ہے اور طلاق کی نیت ہے تو طلاق۔ (2)(جوہرہ) 

    مسئلہ ۵۳: عورت کو کہا تو میری ماں ہے اور نیت تحریم کی ہے تو حرام نہ ہوگی، بلکہ یہ جھوٹ ہے۔(3) (جوہرہ) 

    مسئلہ ۵۴: اپنی دوعورتوں سے کہا تم دونوں مجھ پر حرام ہو اور ایک میں طلاق کی نیت ہے، دوسری میں ایلا کی یا ایک میں ایک طلاق کی نیت کی، دوسری میں تین کی تو جیسی نیت کی، اُس کے موافق حکم دیا جائے گا۔(4) (درمختار ،عالمگیری)
خلع کا بیان
    اﷲ عزوجل ارشاد فرماتا ہے:
     (وَلَا یَحِلُّ لَکُمْ اَنۡ تَاۡخُذُوۡا مِمَّاۤ اٰتَیۡتُمُوۡہُنَّ شَیۡئًا اِلَّاۤ اَنۡ یَّخَافَاۤ اَلَّا یُقِیۡمَا حُدُوۡدَ اللہِ ؕ فَاِنْ خِفْتُمْ  اَلَّا یُقِیۡمَا حُدُوۡدَ اللہِ  ۙ فَلَا جُنَاحَ عَلَیۡہِمَا فِیۡمَا افْتَدَتْ بِہٖ ؕ تِلْکَ حُدُودُ اللہِ فَلَا تَعْتَدُوۡہَا ۚ وَمَنۡ یَّتَعَدَّ حُدُوۡدَ اللہِ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الظّٰلِمُوۡنَ ﴿۲۲۹﴾  )(5)
    تمھیں حلال نہیں کہ جو کچھ عورتوں کو دیا ہے اُس میں سے کچھ واپس لو، مگر جب دونوں کو اندیشہ ہو کہ اﷲ (عزوجل) کی حدیں قائم نہ رکھیں گے پھر اگر تمھیں اندیشہ ہو کہ وہ دونوں اﷲ (عزوجل) کی حدیں قائم نہ رکھیں گے تو اُن پر کچھ گناہ نہیں، اِس میں کہ بدلا دیکر عورت چھٹی لے، یہ اﷲ (عزوجل) کی حدیں ہیں ان سے تجاوز نہ کرو اورجو اﷲ (عزوجل) کی حدوں سے تجاوز کریں تو وہ     لوگ ظالم ہیں۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الطلاق،باب الایلاء،مطلب فی قولہ:أنت علیَّ حرام،ج۵،ص۷۷۔۸۱ .

2۔۔۔۔۔۔''الجوہرۃ النیرۃ''،کتاب الایلاء،الجزء الثانی،ص۷۶.

3۔۔۔۔۔۔المرجع السابق.

4۔۔۔۔۔۔''الدرالمختار''،کتاب الطلاق،باب الایلاء،ج۵،ص۸۵.

و''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق،الباب السابع في الایلاء،ج۱،ص۴۸۷.

5۔۔۔۔۔۔پ۲،البقرۃ:۲۲۹.
Flag Counter