ابھی شوہر نے قبول نہیں کیا تو عورت رجوع کر سکتی ہے اور اپنے ليے اختیار بھی لے سکتی ہے اور یہاں تین دن سے زیادہ کا بھی اختیار لے سکتی ہے۔ بخلاف بیع (1) کے کہ بیع میں تین دن سے زیادہ کا اختیار نہیں اور دونوں میں سے ایک کی مجلس بدلنے کے بعد عورت کا کلام باطل ہو جائیگا۔(2) (خانیہ)
مسئلہ ۷: خلع چونکہ معاوضہ ہے لہٰذا یہ شرط ہے کہ عورت کا قبول اُس لفظ کے معنٰے سمجھ کر ہو، بغیر معنٰے سمجھے اگر محض لفظ بول دے گی تو خلع نہ ہوگا۔ (3)(درمختار)
مسئلہ ۸: چونکہ شوہر کی جانب سے خلع طلاق ہے لہٰذا شوہر کا عاقل بالغ ہونا شرط ہے نا بالغ یامجنون خلع نہیں کر سکتا کہ اہل طلاق نہیں(4) اور یہ بھی شرط ہے کہ عورت محل طلاق ہو لہٰذا اگر عورت کو طلاق بائن دیدی ہے تو اگرچہ عدت میں ہو اُس سے خلع نہیں ہوسکتا۔ یوہیں اگر نکاح فاسد ہواہے یا عورت مرتدہ ہوگئی جب بھی خلع نہیں ہو سکتا کہ نکاح ہی نہیں ہے خلع کس چیز کا ہو گا اور رجعی کی عدت میں ہے تو خلع ہو سکتا ہے۔(5) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۹: شوہر نے کہا میں نے تجھ سے خلع کیا اور مال کا ذکر نہ کیا تو خلع نہیں بلکہ طلاق ہے اور عورت کے قبول کرنے پر موقوف نہیں۔(6) (بدائع)
مسئلہ ۱۰: شوہر نے کہامیں نے تجھ سے اتنے پر خلع کیا عورت نے جواب میں کہا ہاں تو اس سے کچھ نہیں ہوگا جب تک یہ نہ کہے کہ میں راضی ہوئی یا جائز کیا یہ کہا تو صحیح ہوگیا۔ یوہیں اگر عورت نے کہا مجھے ہزار روپیہ کے بدلے میں طلاق دیدے شوہر نے کہا ہاں تو یہ بھی کچھ نہیں اور اگر عورت نے کہا مجھ کو ہزار روپیہ کے بدلے میں طلاق ہے شوہر نے کہا ہاں تو ہوگئی۔(7)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۱: نکاح کی وجہ سے جتنے حقوق ایک کے دوسرے پر تھے وہ خلع سے ساقط ہو جاتے ہیں اور جو حقوق کہ نکاح سے علاوہ ہیں وہ ساقط نہ ہوں گے۔ عدت کا نفقہ اگرچہ نکاح کے حقوق سے ہے مگر یہ ساقط نہ ہوگا ہاں اگر اس کے ساقط ہونے کی