مسئلہ ۲۱: اپنی چار عورتوں سے کہا خداکی قسم میں تم سے قربت نہ کرونگا مگر فلانی یا فلانی سے، تو ان دونوں سے ایلا نہ ہوا۔(1) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۲: اپنی دوعورتوں کو مخاطب کرکے کہا خدا کی قسم تم میں سے ایک سے قربت نہ کرونگا تو ایک سے ایلا ہوا۔ پھر اگر ایک سے وطی کرلی ایلا باطل ہوگیا اورکفارہ واجب ہے۔ اور اگر ایک مر گئی یا مرتد ہ ہوگئی یا اُس کو تین طلاقیں دیدیں تو دوسری ایلا کے ليے معیَّن ہے۔ اور اگر کسی سے وطی نہ کی یہاں تک کہ مدت گزر گئی تو ایک کو بائن طلاق پڑگئی اُسے اختیار ہے جسے چاہے اس کے ليے معین کرے۔ اور اگر چار مہینے کے اندر ایک کو معین کرنا چاہتا ہے تو اسکا اُسے اختیار نہیں اگر معین کر بھی دے جب بھی معین نہ ہوئی مدت کے بعد معین کرنے کا اُسے اختیار ہے۔ اگر ایک سے بھی جماع نہ کیا اور چارمہینے اور گزر گئے تو دونوں بائن ہوگئیں اس کے بعد اگر پھر دونوں سے نکاح کیا ایک ساتھ یا آگے پیچھے تو پھر ایک سے ایلا ہے مگر غیر معین اور دونوں مدتیں گزرنے پر دونوں بائن ہو جائیں گی۔(2) (عالمگيری)
مسئلہ ۲۳: اگر کہا تم دونوں میں کسی سے قربت نہ کرونگا تو دونوں سے ایلا ہے چار مہینے گزر گئے اور کسی سے قربت نہ کی تو دونوں کو طلاق بائن ہوگئی اور ایک سے وطی کرلی تو ایلا باطل ہے اور کفارہ واجب۔(3) (عالمگيری)
مسئلہ ۲۴: اپنی عورت اور باندی سے کہا تم میں ایک سے قربت نہ کرونگا تو ایلا نہیں ہاں اگر عورت مراد ہے تو ہے اور ان میں ایک سے وطی کی تو قسم ٹوٹ گئی کفارہ دے۔ پھر اگر لونڈی کو آزاد کرکے اُس سے نکاح کیا جب بھی ایلا نہیں اور اگر دو زوجہ ہوں ایک حرہ (4) دوسری باندی اور کہا تم دونوں سے قربت نہ کرونگا تو دونوں سے ایلا ہے دو۲ مہینے گزر گئے اور کسی سے قربت نہ کی تو باندی کو بائن طلاق ہوگئی اسکے بعد دو ۲ مہینے اور گزر ے تو حرہ بھی بائن۔(5) (عالمگيری)
مسئلہ ۲۵: اپنی دو عورتوں سے کہا کہ اگر تم میں ایک سے قربت کروں تو دوسری کو طلاق ہے اور چار مہینے گزر گئے مگرکسی سے وطی نہ کی تو ایک بائن ہوگئی اور شوہر کو اختیار ہے جس کو چاہے طلاق کے ليے معین کرے اور اب دوسری سے ایلا ہے اگر پھر چار مہینے گزر گئے اور ہنوز(6) پہلی عدت میں ہے تو دوسری بھی بائن ہوگئی ورنہ نہیں اور اگر معین نہ کیا یہاں تک کہ اور چار