مسئلہ ۵: یوں ایلا کیا کہ اگر میں قربت کروں تو میرا فلاں غلام آزاد ہے اسکے بعد غلام مر گیا تو ایلا ساقط ہوگيا۔ یوہیں اگر اُس غلام کو بیچ ڈالا جب بھی ساقط ہے مگر وہ غلام اگر قربت سے پہلے پھر اس کی مِلک میں آگیا تو ایلا کا حکم لوٹ آئیگا۔ (1)(ردالمحتار)
مسئلہ ۶: ایلا صرف منکوحہ سے ہوتا ہے یا مطلقہ رجعی سے کہ وہ بھی منکوحہ ہی کے حکم میں ہے اجنبیہ(2)سے اور جسے بائن طلاق دی ہے اُس سے ابتداء ً نہیں ہو سکتا۔ یوہیں اپنی لونڈی سے بھی نہیں ہو سکتا ہاں دوسرے کی کنیز اس کے نکاح میں ہے تو ایلا کر سکتا ہے یوہیں اجنبیہ کا ایلا اگر نکاح پر معلق کیا تو ہو جائیگا مثلاً اگر میں تجھ سے نکاح کر وں تو خدا کی قسم تجھ سے قربت نہ کرونگا۔ (3)(ردالمحتار)
مسئلہ ۷: ایلا کے ليے یہ بھی شرط ہے کہ شوہر اہل طلاق ہو یعنی وہ طلاق دے سکتا ہو لہٰذا مجنون و نابالغ کا ایلا صحیح نہیں کہ یہ اہل طلاق نہیں۔(4) (درمختار)
مسئلہ ۸: غلام نے اگر قسم کےساتھ ایلا کیا مثلاًخدا کی قسم میں تجھ سے قُربت نہ کروں گا یا ایسی چیز پر معلق کیا جسے مال سے تعلق نہیں مثلاً اگر میں تجھ سے قربت کروں تو مجھ پر اتنے دنوں کا روزہ ہے یا حج یا عمرہ ہے یا میری عورت کو طلاق ہے تو ایلا صحیح ہے۔ اور اگر مال سے تعلق ہے تو صحیح نہیں مثلاً مجھ پر ایک غلام آزاد کرنا یا اِتنا صدقہ دینا لازم ہے تو اِیلا نہ ہوا کہ وہ مال کا مالک ہی نہیں۔ (5)(ردالمحتار)
مسئلہ ۹: یہ بھی شرط ہے کہ چار مہینے سے کم کی مدت نہ ہو اور زوجہ کنیز ہے تو دو ماہ سے کم کی نہ ہو اور زیادہ کی کوئی حد نہیں اور زوجہ کنیز تھی اس کے شوہر نے ایلا کیا تھا اور مدت پوری نہ ہوئی تھی کہ آزاد ہوگئی تو اب اس کی مدت آزاد عورتوں کی ہے۔ اور یہ بھی شرط ہے کہ جگہ معین نہ کرے اگر جگہ معین کی مثلاً واﷲ فلاں جگہ تجھ سے قربت نہ کروں گا تو ایلا نہیں۔ اور یہ بھی شرط ہے کہ زوجہ کے ساتھ کسی باندی یا اجنبیہ کو نہ ملائے مثلاً تجھ سے اور فلاں عورت سے قربت نہ کرونگا۔ اور یہ کہ بعض مدت کا استثنا نہ ہو مثلاً چار مہینے تجھ سے قربت نہ کرونگا مگر ایک دن۔ اور یہ کہ قربت کے ساتھ کسی اور چیز کو نہ ملائے مثلاً اگر میں تجھ سے قربت کروں یا تجھے اپنے بچھونے پر بُلاؤں تو تجھ کو طلاق ہے تو یہ ایلا نہیں۔ (6)(خانیہ، درمختار، ردالمحتار)