کی عظمت و جلال کی قسم، اُس کی کبریائی کی قسم، قرآن کی قسم، کلام اﷲ کی قسم، دوسری تعلیق مثلاً یہ کہ اگر اِس سے وطی کروں تو میرا غلام آزاد ہے یا میری عورت کو طلاق ہے یا مُجھ پر اتنے دنوں کا روزہ ہے یا حج ہے۔(1) (عامہ کتب)
مسئلہ ۳: ایلادو۲ قسم ہے ایک موقت یعنی چار مہینے کا، دوسرا مؤبد یعنی چار مہینے کی قید اُس میں نہ ہو بہر حال اگر عورت سے چار ماہ کے اندر جماع کیا تو قسم ٹوٹ گئی اگرچہ مجنون ہواور کفارہ لازم جبکہ اﷲ تعالیٰ یا اُس کے اُن صفات کی قسم کھائی ہو۔ اور جماع سے پہلے کفارہ دے چکا ہے تو اُس کا اعتبار نہیں بلکہ پھر کفارہ دے۔ اور اگر تعلیق تھی تو جس بات پرتھی وہ ہوجائے گی مثلاً یہ کہا کہ اگر اس سے صحبت کروں تو غلام آزاد ہے اور چار مہینے کے اندر جماع کیا تو غلام آزاد ہوگيا اور قربت نہ کی یہاں تک کہ چار مہینے گزر گئے تو طلاق بائن ہوگئی۔ پھر اگر ایلا ئے موقت تھا یعنی چار ماہ کا تو یمین (2) ساقط ہوگئی یعنی اگر اُس عورت سے پھر نکاح کیا تو اُسکا کچھ اثر نہیں۔ اور اگر مؤبد تھا یعنی ہمیشہ کی اُس میں قید تھی مثلاً خدا کی قسم تجھ سے کبھی قربت نہ کرونگایا اس میں کچھ قید نہ تھی مثلاًخدا کی قسم تجھ سے قربت نہ کرونگا تو اِن صورتوں میں ایک بائن طلاق پڑگئی پھر بھی قسم بدستور باقی ہے یعنی اگر اُس عورت سے پھر نکاح کیا تو پھر ایلا بدستور آگیا اگر وقت نکاح سے چارماہ کے اندر جماع کرلیا تو قسم کا کفارہ دے اور تعلیق تھی تو جزا واقع ہو جائیگی۔ اور اگر چار مہینے گزرلیے اور قربت نہ کی تو ایک طلاق بائن واقع ہوگئی مگر یمین بدستور باقی ہے سہ بارہ (3) نکاح کیاتو پھر ایلاآگیا اب بھی جماع نہ کرے تو چار ماہ گزر نے پر تیسری طلاق پڑجائیگی اور اب بے حلالہ نکاح نہیں کر سکتا اگر حلالہ کے بعد پھر نکاح کیا تو اب ایلا نہیں یعنی چار مہینے بغیر قربت گزرنے پر طلاق نہ ہوگی مگر قسم باقی ہے اگر جماع کریگا کفارہ واجب ہوگا۔ اور اگر پہلی یا دوسری طلاق کے بعد عورت نے کسی اور سے نکاح کیا اُس کے بعد پھر اس سے نکاح کیا تو مستقل طور پر اب سے تین طلاق کا مالک ہوگا مگر ایلا رہے گا یعنی قربت نہ کرنے پر طلاق ہوجائے گی پھر نکاح کیا پھر وہی حکم ہے پھر ایک یا دو طلاق کے بعد کسی سے نکاح کیا پھر اس سے نکاح کیا پھر وہی حکم ہے یعنی جب تک تین طلاق کے بعد دوسرے شوہر سے نکاح نہ کرے ایلا بدستور باقی رہے گا۔(4) (عالمگيری)
مسئلہ ۴: ذمی نے ذات وصفات (5) کی قسم کے ساتھ ایلا کیا یا طلاق و عتاق(6) پر تعلیق کی تو ایلا ہے اور حج و روزہ و دیگر عبادات پر تعلیق کی تو ایلا نہ ہوا اور جہاں ایلا صحیح ہے وہاں مسلمان کے حکم میں ہے، مگر صحبت کرنے پر کفارہ واجب نہیں۔(7) (عالمگيری)