Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ ہشتم (8)
181 - 282
شوہر اول سے اسکا نکاح ہوا تو اب شوہر اول تین طلاقوں کا مالک ہوگيا پہلے جو کچھ طلاق دے چکا تھا اُس کا اعتبار اب نہ ہوگا۔ اور اگر شوہر ثانی نے دخول نہ کیا ہواور شوہر اول نے تین طلاقیں دی تھیں جب تو ظاہر ہے کہ حلالہ ہواہی نہیں پہلے شوہر سے نکاح ہی نہیں ہو سکتا اور تین سے کم دی تھی تو جو باقی رہ گئی ہے اُسی کا مالک ہے تین کا مالک نہیں اور زوجہ لونڈی ہو تو اس کی دو طلاقیں حرہ کی تین کی جگہ ہیں۔(1) (عالمگيری، درمختار) 

    مسئلہ ۵۷: عورت کے پاس دوشخصوں نے گواہی دی کہ اُس کے شوہر نے اُسے تین طلاقیں دیدیں اور شوہر غائب ہے توعورت بعد عدت دوسرے سے نکاح کر سکتی ہے بلکہ اگر ایک شخص ثقہ نے طلاق کی خبر دی ہے جب بھی عورت نکاح کرسکتی ہے بلکہ اگر شوہر کا خط آیا جس میں اسے طلاق لکھی ہے اور عورت کا غالب گمان ہے کہ خط اُسی کا ہے تو نکاح کرنے کی عورت کے ليے گنجائش ہے اور اگر شوہر موجود ہے اور دونوں میاں بی بی کی طرح رہتے ہیں تو اب نکاح نہیں کرسکتی۔ (2)(عالمگیری ،ردالمحتار) 

    مسئلہ ۵۸: شوہر نے عورت کو تین طلاقیں دیدیں یا بائن طلاق دی مگر اب انکار کرتا ہے اور عورت کے پاس گواہ نہیں تو جس طرح ممکن ہو عورت اُس سے پیچھا چھڑائے، مہر معاف کرکے یا اپنا مال دیکر اُس سے علیحدہ ہو جائے، غرض جس طرح بھی ممکن ہو اُس سے کنارہ کشی کرے اور کسی طرح وہ نہ چھوڑے تو عورت مجبور ہے مگر ہر وقت اِسی فکر میں رہے کہ جس طرح ممکن ہو رہائی حاصل کرے اور پوری کو شش اس کی کرے کہ صحبت نہ کرنے پائے یہ حکم نہیں کہ خود کشی کرلے(3)۔ عورت جب اِن باتوں پر عمل کرے گی تو معذور ہے اور شوہر بہر حال گنہگار ہے۔ (4)(درمختار مع زیادۃ) 

    مسئلہ ۵۹: عورت کو اب تین طلاقیں دیں اور کہتا یہ ہے کہ اس سے پیشتر ایک طلاق دے چکا تھا اور عدت بھی ہو چکی تھی یعنی اُس کا مقصد یہ ہے کہ چونکہ عدت گزرنے پر عورت اجنبیہ ہوگئی لہٰذا یہ طلاقیں واقع نہ ہوئیں اور عورت بھی تصدیق کرتی ہے تو کسی کی تصدیق نہ کیجائے دونوں جھوٹے ہیں کہ ایسا تھا تو میاں بی بی کی طرح رہتے کیونکر تھے ہاں اگر لوگوں کو اُسکا طلاق دینا
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق،الباب السادس في الرجعۃ،فصل فیماتحل بہ المطلَّقۃ...إلخ،ج۱،ص۴۷۵.

و''الدرالمختار''،کتاب الطلاق،باب الرجعۃ،ج۵،ص۵۵.

2۔۔۔۔۔۔''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق،الباب السادس في الرجعۃ،فصل فیماتحل بہ المطلَّقۃ...إلخ،ج۱،ص۴۷۵.

و''ردالمحتار''،کتاب الطلاق، باب الرجعۃ ،مطلب: الاقدام علی النکاح...الخ ، ج۵، ص۶۰. 

3۔۔۔۔۔۔امیراہلسنت حضرت علامہ مولاناابوبلال محمدالیاس عطارقادری دامت برکاتھم العالیہ لکھتے ہیں''خودکشی گناہ کبیرہ حرام اورجہنم میں لے جانے والاکام ہے۔نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کاارشادہے ''تم سے پہلی امتوں میں سے ایک شخص کے بدن میں پھوڑا نکلا(جب اس میں سخت  تکلیف ہونے لگی) تو اس نے اپنے ترکش (یعنی تیردان )سے تیرنکالااورپھوڑے کوچیردیاجس سے خون بہنے لگااوررک نہ سکایہاں تک کہ

اس سبب سے وہ ہلاک ہوگیاتمھارے رب عزوجل نے فرمایامیں نے اس پرجنت حرام کردی '' (صحیح مسلم ،حدیث ۱۸۰،ص۱۷) 

(مزیدمعلومات کے لیے دیکھیے رسالہ'' خودکشی کاعلاج ''ص۶)۔...عِلْمِیہ 

4۔۔۔۔۔۔''الدرالمختار''،کتاب الطلاق،باب الرجعۃ،ج۵،ص۵۹،مع زیادۃ.
Flag Counter