نے نکاح کے بعد کہا کہ شوہر ثانی نے جماع نہیں کیا ہے تو دونوں میں تفریق کردی جائے اور اگر شوہر اول سے نکاح ہو جانے کے بعد عورت کہتی ہے میں نے دوسرے سے نکاح کیا ہی نہ تھا اور شوہر کہتا ہے کہ تو نے دوسرے سے نکاح کیا اور اُس نے وطی بھی کی تو عورت کی تصدیق نہ کی جائے اور اگر شوہر ثانی عورت سے کہتا ہے کہ میرا نکاح تجھ سے فاسد ہوا کہ میں نے تیری ماں سے جماع کیا ہے اگر عورت اُسکے کہنے کو سچ سمجھتی ہے تو عورت شوہر اول کے ليے حلال نہ ہوئی۔(1) (عالمگیری)
مسئلہ ۵۳: کسی عورت سے نکاح فاسد کرکے تین طلاقیں دے دیں تو حلالہ کی حاجت نہیں بغیر حلالہ اُس سے نکاح کر سکتا ہے۔(2) (عالمگيری)
مسئلہ ۵۴: نکاح بشرط التحلیل (3) جس کے بارے میں حدیث میں لعنت آئی وہ یہ ہے کہ عقد ِنکاح یعنی ایجاب و قبول میں حلالہ کی شرط لگائی جائے اور یہ نکاح مکروہ تحریمی ہے زوج اول و ثانی (4) اور عورت تینوں گنہگار ہوں گے مگر عورت اِس نکاح سے بھی بشرائط حلالہ شوہر اول کے ليے حلال ہو جائیگی۔ اور شرط باطل ہے۔ اور شوہر ثانی طلاق دینے پر مجبور نہیں۔ اور اگر عقد میں شرط نہ ہو اگرچہ نیت میں ہو تو کراہت اصلاً نہیں بلکہ اگر نیت خیر ہو تو مستحق اجر ہے۔ (5)(درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۵۵ـ: اگر نکاح اس نیت سے کیا جارہا ہے کہ شوہر اول کے ليے حلال ہو جائے اور عورت یا شوہر اول کو یہ اندیشہ ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ نکاح کرکے طلاق نہ دے تو دقّت (6) ہوگی تو اس کے ليے بہتر حیلہ یہ ہے کہ اُس سے یہ کہلوالیں کہ اگر میں اس عورت سے نکاح کرکے جماع کروں یا نکاح کرکے ایک رات سے زیادہ رکھوں تو اس پر بائن طلاق ہے اب عورت سے جماع کرتے ہی یا رات گزرنے پر طلاق پڑجائے گی یا یوں کرے کہ عورت یا اُسکا وکیل یہ کہے کہ میں نے یا میری مؤکلہ نے اپنے نفس کو تیرے نکاح میں دیا اس شرط پر کہ مجھے یا اُسے اپنے نفس کااختیار ہے کہ جب چاہے اپنے کو طلاق دے لے وہ کہے میں نے قبول کیا اب عورت کو طلاق دینے کا خود اختیار ہے۔ اور اگر پہلے زوج کی جانب سے الفاظ کہے گئے کہ میں نے اُس عورت سے نکاح کیا اِس شرط پر کہ اُسے اُس کے نفس کا اختیار ہے تو یہ شرط لغو (7) ہے عورت کو اختیار نہ ہوگا۔ (8)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۵۶: دوسرے سے عورت نے نکاح کیا اور اُس نے دخول بھی کیا پھر اس کے مرنے یا طلاق دینے کے بعد