| بہارِشریعت حصّہ ہشتم (8) |
مسئلہ ۳۷: شوہر کو چاہیے کہ جس مکان میں عورت ہے جب وہاں جائے تو اُسے خبر کردے یا کھنکار کر جائے یا اس طرح چلے کہ جوتے کی آوازعورت سُنے یہ اُس صورت میں ہے کہ رجعت کا ارادہ نہ ہو۔ یوہیں جب رجعت کا ارادہ نہ ہو تو خلوت بھی مکروہ ہے اور رجعت کا ارادہ ہے تو مکروہ نہیں اور رجعت کا ارادہ ہو تو اس کی باری بھی ہے ورنہ نہیں۔ (1)(درمختار، عالمگیری وغیرہما)
مسئلہ ۳۸: عورت باندی تھی اُسے طلاق دیدی اور حرہ سے نکاح کر لیا تو اُس سے رجعت کر سکتا ہے۔(2) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۹: جس عورت کو تین سے کم طلاق بائن دی ہے اُس سے عدت میں بھی نکاح کر سکتاہے اور بعد عدت بھی اور تین طلاقیں دی ہوں یا لونڈی کو دو تو بغیر حلالہ نکاح نہیں کر سکتا اگرچہ دخول نہ کیا ہو البتہ اگر غیر مدخولہ ہو (3) تو تین طلاق ایک لفظ سے ہوگی تین لفظ سے ایک ہی ہوگی جیسا پہلے معلوم ہو چکا اور دوسرے سے عدت کے اندر مطلقاً نکاح نہیں کر سکتی تین طلاقیں دی ہوں یا تین سے کم۔(4) (عامہ کتب)(حلالہ کے مسائل)
مسئلہ ۴۰: حلالہ کی صورت یہ ہے کہ اگر عورت مدخولہ ہے(5) تو طلاق کی عدت پوری ہونے کے بعد عورت کسی اور سے نکاح صحیح کرے اور یہ شوہر ثانی (6) اُس عورت سے وطی بھی کرلے اب اس شوہر ثانی کے طلاق یا موت کے بعد عدت پوری ہونے پر شوہر اول سے نکاح ہو سکتا ہے اور اگر عورت مدخولہ نہیں ہے تو پہلے شوہر کے طلاق دینے کے بعد فوراًدوسرے سے نکاح کر سکتی ہے کہ اس کے ليے عدت نہیں۔(7) (عامہ کتب)
مسئلہ ۴۱: پہلے شوہر کے ليے حلال ہونے میں نکاح ِصحیح نافذ کی شرط ہے اگر نکاح فاسد ہوا یا موقوف اور وطی بھی ہوگئی تو حلالہ نہ ہوامثلاًکسی غلام نے بغیر اجازت مولیٰ اُس سے نکاح کیا اور وطی بھی کر لی پھر مولیٰ نے جائز کیا تو اجازت مولیٰ کے بعدــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 1۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق، الباب السادس في الرجعۃ وفیماتحل بہ المطلقۃ وما یتصل بہ، ج۱، ص۴۷۲. و''الدرالمختار''،کتاب الطلاق، باب الرجعۃ، ج۵، ص۴۲، وغیرہما. 2۔۔۔۔۔۔''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق، الباب السادس في الرجعۃ وفیماتحل بہ المطلقۃ وما یتصل بہ، ج۱، ص۴۷۲. 3۔۔۔۔۔۔جس سے جماع،دخول نہ کیا گیاہو۔ 4۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الھنديۃ''، الباب السادس في الرجعۃ وفیما تحل بہ المطلقۃ وما یتصل بہ، ج۱، ص۴۷۲، وغیرہ. 5۔۔۔۔۔۔جس سے جماع،دخول کیا گیاہو۔ 6۔۔۔۔۔۔دوسراشوہر۔ 7۔۔۔۔۔۔ ''البحرالرائق''،کتاب الطلاق، فصل فیما تحل بہ المطلقۃ، ج۴، ص۹۷،۹۸.