وطی کرکے چھوڑے گا تو پہلے شوہر سے نکاح کر سکتی ہے اور بلا وطی طلاق دی تو وہ پہلے کی وطی کافی نہیں۔ یوہیں زنا یا وطی بالشبہ سے بھی حلالہ نہ ہوگا۔ یوہیں اگر وہ عورت کسی کی باندی تھی عدت پوری ہونے کے بعد مولیٰ نے اُس سے جماع کیا تو شوہر اول کے ليے اب بھی حلال نہ ہوئی اور اگر زوجہ باندی تھی اُسے دو۲ طلاقیں دیں پھر اُس کے مالک سے خریدلی یا اور کسی طرح سے اُس کا مالک ہوگيا تو اُس سے وطی نہیں کرسکتا جب تک دوسرے سے نکاح نہ ہولے اوروہ دوسراوطی بھی نہ کرلے۔ یوہیں اگر عورت معاذاﷲ مُرتدہ ہوکر دارالحرب میں چلی گئی پھر وہاں سے جہاد میں پکڑ آئی اور شوہر اُس کا مالک ہوگيا تو اس کے ليے حلال نہ ہوئی۔ حلالہ میں جو وطی شرط ہے، اس سے مراد وہ وطی ہے جس سے غسل فرض ہو جاتا ہے یعنی دخول حشفہ(1) اور انزال (2)شرط نہیں۔ (3)(درمختار، عالمگیری وغیرہما)
مسئلہ ۴۲: عورت حیض میں ہے یا احرام باندھے ہوئے ہے اس حالت میں شوہر ثانی نے وطی کی تو یہ وطی حلالہ کے ليے کافی ہے اگرچہ حیض کی حالت میں وطی کرنا بہت سخت حرام ہے۔ (4)(ردالمحتار)
مسئلہ ۴۳: دوسرا نکاح مراہق سے ہوا (یعنی ایسے لڑکے سے جو نا بالغ ہے مگر قریب بلوغ ہے اور اُس کی عمر والے جماع کرتے ہیں) اور اُس نے وطی کی اور بعد بلوغ طلاق دی تو وہ وطی کہ قبل بلوغ کی تھی حلالہ کے ليے کافی ہے مگر طلاق بعد بلوغ ہونی چاہیے کہ نابالغ کی طلاق واقع ہی نہ ہوگی مگر بہتر یہ ہے کہ بالغ کی وطی ہو کہ امام مالک رحمہ اﷲ تعالیٰ کے نزدیک انزال شرط ہے اور نا بالغ میں انزال کہاں۔ (5)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۴۴: اگر مطلقہ چھوٹی لڑکی ہے کہ وطی کے قابل نہیں تو شوہر ثانی اُس سے وطی کر بھی لے جب بھی شوہر ِاول کے ليے حلال نہ ہوئی اور اگر نابالغہ ہے مگر اُس جیسی لڑکی سے وطی کی جاتی ہے یعنی وہ اس قابل ہے تو وطی کافی ہے۔ (6)(درمختار)
مسئلہ ۴۵: اگر عورت کے آگے اور پیچھے کا مقام ایک ہوگيا ہے تو محض وطی کافی نہیں بلکہ شرط یہ ہے کہ حاملہ ہو جائے۔ یوہیں اگر ایسے شخص سے نکاح ہوا جس کا عضو تناسل کٹ گیا ہے تو اس میں بھی حمل شرط ہے۔(7) (عالمگيری)