جب تک غیر مشکوک پانی (1)سے نہا نہ لے یا نماز کا وقت نہ گزر لے اور اگر وقت اتنا باقی ہے کہ نہا کر تحریمہ باندھ لے تو اُس وقت کے ختم ہونے پر رجعت بھی ختم ہے اور اگر اتناخفیف (2)وقت باقی ہے کہ نہانہیں سکتی یا نہاسکتی ہے مگر غسل اور کپڑا پہننے کے بعد اﷲ اکبر کہنے کا بھی وقت نہ رہے گا تو اُس وقت کا اعتبار نہیں بلکہ یا نہالے یا اس کے بعد کا دوسرا وقت گزرلے۔ اور اگر ایسے وقت میں خون بند ہوا کہ وہ وقت فرض نماز کا نہیں یعنی آفتاب نکلنے سے ڈھلنے تک تو اس کا بھی اعتبار نہیں بلکہ اسکے بعد کا وقت ختم ہوجائے یعنی ظہر کا۔ اور اگر دس دن رات سے کم میں خون بند ہوا اور عورت نے غسل کرلیا پھر خون جاری ہوگيا اور دس دن سے متجاوز نہ ہوا تو ابھی رجعت ختم نہ ہوئی تھی اور اگر عورت نے دوسرے سے نکاح کرلیا تھا تو نکاح صحیح نہ ہوا۔ یوہیں اگر غسل یا نمازکا وقت گزرنے سے پہلے اس صورت میں نکاح دوسرے سے کیا جب بھی نکاح نہ ہوا۔(3) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۲۸: کسی عورت کو کبھی پانچ دن خون آتا ہے اور کبھی چھ ۶ دن اور اس بار استحاضہ ہوگیا یعنی دس ۱۰دن سے زیادہ آیا تو رجعت کے حق میں پانچ دن کااعتبار ہے کہ پانچ دن پورے ہونے پر رجعت نہ ہوگی اور دوسرے سے نکاح کرنا چاہتی ہے تو اس حیض کے چھ۶ دن پورے ہونے پر کر سکتی ہے۔(4) (عالمگيری)
مسئلہ ۲۹: عورت اگر کتابیہ ہے تو پچھلا حیض ختم ہوتے ہی رجعت ختم ہو گئی غسل و نماز کا وقت گزرنا شرط نہیں۔ (5)(عالمگيری) مجنونہ اور معتوہہ کا بھی یہی حکم ہے۔ (6)(درمختار)
مسئلہ ۳۰: دس۱۰ دن رات سے کم میں منقطع ہوا اور نہ نہائی نہ نماز کا وقت ختم ہوا بلکہ تیمم کرلیا تو رجعت منقطع نہ ہوئی ہاں اگر اس تیمم سے پوری نماز پڑھ لی تو اب رجعت نہیں ہو سکتی اگرچہ وہ نماز نفل ہواور اگر ابھی نماز پوری نہیں ہوئی ہے، بلکہ شروع کی ہے تو رجعت کر سکتا ہے اور اگر تیمم کرکے قرآن مجید پڑھا یا مصحف شریف چھوایا مسجد میں گئی تو رجعت ختم نہ ہوئی۔ (7)(فتح وغیرہ)
مسئلہ ۳۱: غسل کیا اور کوئی جگہ ایک عضو سے کم مثلاً بازو یا کلائی کا کچھ حصہ یا دو ایک اونگلی بھول گئی جہاں پانی پہنچنے نہ پہنچنے میں شک ہے تو رجعت ختم ہوگئی مگر دوسرے سے نکاح اُس وقت کر سکتی ہے کہ اُس جگہ کو دھولے یا نماز کا وقت گزر جائے اور