اور اگر مولیٰ کہتا ہے تو نے رجعت کی ہے اور شوہر منکر ہے تو مولیٰ کا قول معتبر نہیں۔(1) (جوہرہ)
مسئلہ ۲۳: عورت نے پہلے يہ کہاکہ میری عدت پوری ہو چکی اب کہتی ہے کہ پوری نہیں ہوئی تو شوہر کو رجعت کا اختیار ہے۔ (2)(تنویر)
مسئلہ ۲۴: عورت عدت پوری ہونا بتائے تو مدت کا لحاظ ضروری ہے یعنی اتنا زمانہ گزر چکا ہو کہ عدت پوری ہوسکتی ہو یعنی اُس زمانہ میں تین حیض پورے ہو سکیں اوراگر وضع حمل سے عدت ہو تو اُس کے ليے کوئی مدّت نہیں اگر کچا بچہ ہوا جس کے اعضا بن چکے ہوں جب بھی عدت پوری ہو جائیگی مگر اس میں عورت سے قسم لی جائیگی کہ اُس کے اعضا بن چکے تھے اوراگر ولادت کا دعویٰ کرتی ہے تو گواہ ہونے چاہیے۔ (3)(درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۲۵: عورت سے کہا اگرمیں تجھے چھوؤں تو تجھ کو طلاق ہے اور چھوا تو طلاق ہوگئی پھر دوبارہ چھوا تو رجعت ہوگئی جبکہ یہ شہوت کے ساتھ ہو۔ (4)(عالمگيری)
مسئلہ ۲۶: اپنی عورت سے کہا اگر میں تجھ سے رجعت کروں تو تجھ کو طلاق ہے تو مراد رجعت حقیقی ہے یعنی اگر اُسے طلاق دی پھر نکاح کیا تو طلاق واقع نہ ہوگی اوراگر رجعت کی تو ہو جائے گی۔ اور طلاق رجعی کی عدت میں اُس سے کہا کہ اگر میں رجعت کروں تو تجھ کو تین طلاقیں اور عدت پوری ہونے کے بعد اُس سے نکاح کیا تو طلاق نہیں ہوگی اور بائن کی عدت میں کہا تو ہو جائے گی۔(5) (عالمگيری)
مسئلہ ۲۷: رجعت اُس وقت تک ہے کہ پچھلے حیض سے پاک نہ ہوئی ہو اُس کے بعد نہیں ہوسکتی یعنی اگر باندی ہے تودوسرے حیض سے پاک ہونے تک اور آزاد عورت ہے تو تیسرے سے پاک ہونے تک رجعت ہے اب اگر پچھلا حیض پورے دس دن پر ختم ہوا ہے تو دس دن رات پورے ہوتے ہی رجعت کا بھی خاتمہ ہے اگرچہ غسل ابھی نہ کیا ہو اور دس دن رات سے کم میں پاک ہوئی تو جب تک نہا نہ لے یا نماز کا ایک وقت نہ گزرلے رجعت ختم نہیں ہوئی اور اگر گدھے کے جھوٹے پانی سے نہائی جب بھی رجعت نہیں کر سکتا مگر اُس غسل سے نماز نہیں پڑھ سکتی نہ ابھی دوسرے سے نکاح کر سکتی ہے