ہوئی اور دوسرا منکرہے (1)تو زوجہ کا قول معتبر ہے اور قسم کھلانے کی حاجت نہیں اور عدّت کے اندر یہ اختلاف ہوا تو زوج کا قول معتبر ہے اور اگر عدّت کے بعد شوہر نے گواہوں سے ثابت کیا کہ میں نے عدّت میں کہا تھا کہ میں نے اُسے واپس لیا یا کہا تھا کہ میں نے اُس سے جماع کیا تو رجعت ہوگئی۔(2) (ہدایہ ،بحر وغیرہما)
مسئلہ ۱۹: عدّت پوری ہونے کے بعد کہتا ہے کہ میں نے عدّت میں رجعت کرلی ہے اور عورت تصدیق کرتی ہے تو رجعت ہوگئی اور تکذیب کرتی ہے تو نہیں۔ (3)(ہدایہ)
مسئلہ ۲۰: زوج و زوجہ متفق ہیں کہ جمعہ کے دن رجعت ہوئی مگر عورت کہتی ہے میری عدت جمعرات کو پوری ہوئی تھی اورشوہر کہتا ہے ہفتہ کے دن، تو قسم کے ساتھ شوہر کا قول معتبر ہے۔(4) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۱: عورت سے عدت میں کہا میں نے تجھے واپس لیا اُس نے فوراً کہا میری عدت ختم ہو چکی اور طلاق کو اتنا زمانہ ہو چکا ہے کہ اتنے دنوں میں عدت پوری ہوسکتی ہے تو رجعت نہ ہوئی مگر عورت سے قسم لی جائے گی کہ اُس وقت عدت پوری ہوچکی تھی اگر قسم کھانے سے انکار کریگی تو رجعت ہو جائے گی۔ اور اگر طلاق کو اتنا زمانہ نہیں ہو ا کہ عدت پوری ہو سکے تو رجعت ہوگئی البتہ اگر عورت کہتی ہے کہ میرے بچہ پیدا ہوا اور اسے ثابت بھی کردے تو مدت کا لحاظ نہ کیا جائے گا اور اگر جس وقت شوہر نے رجعت کے الفاظ کہے عورت چُپ رہی پھر بعد میں کہا کہ میری عدت پوری ہوچکی تو رجعت ہوگئی۔(5) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۲۲: باندی کے شوہر نے عدت گزرنے کے بعد کہا میں نے عدت میں رجعت کرلی تھی مولیٰ (6) اس کی تصدیق کرتا ہے اور باندی تکذیب اور شوہر کے پاس گواہ نہیں یا باندی کہتی ہے میری عدت گزر چکی تھی اور شوہر و مولیٰ دونوں انکار کرتے ہیں تو ان دونوں صورتوں میں باندی کا قول معتبر ہے اور اگر مولیٰ شوہر کی تکذیب کرتا ہے اور باندی تصدیق تو مولیٰ کا قول معتبر ہے۔ اور اگر دونوں شوہر کی تصدیق کرتے ہیں تو کوئی اختلاف ہی نہیں۔ اور دونوں تکذیب کرتے ہوں تو رجعت نہیں ہوئی۔(7) (درمختار، ردالمحتار)