نے ایسا کیایا مرد سورہا تھا یا بوہرا یا مجنون ہے اور عورت نے ایسا کیا جب بھی رجعت ہوگئی جبکہ مرد تصدیق کرتا ہو کہ اُس وقت شہوت تھی اوراگر مرد شہوت ہونے یا نفسِ فعل ہی سے انکار کرتا ہو تو رجعت نہ ہوئی اور مرد مرگیا ہو تو اُس کے ورثہ کی تصدیق یا انکار کا اعتبارہے۔(1) (درمختار)
مسئلہ ۱۲: مجنون کی رجعت فعل سے ہوگی قول سے نہیں اوراگر مرد سورہا تھا یا مجنون ہے اور عورت نے اپنی شرمگاہ میں اُس کا عضو داخل کرلیا تو رجعت ہوگئی۔ (2)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۳: عورت نے مرد سے کہا میں نے تجھ سے رجعت کرلی تو یہ رجعت نہ ہوئی۔(3) (عالمگيری)
مسئلہ ۱۴: محض خلوت سے رجعت نہ ہوگی اگرچہ صحیحہ ہواور پیچھے کے مقام میں وطی کرنے سے بھی رجعت ہو جائے گی اگرچہ یہ حرام اور سخت حرام ہے اور اس کی طرف بشہوت (4) نظر کرنے سے نہ ہوگی۔ (5)(عالمگیری ،درمختار)
مسئلہ ۱۵: عدّت میں اُس سے نکاح کر لیا جب بھی رجعت ہو جائے گی۔ (6)(درمختار)
مسئلہ ۱۶: رجعت میں عورت کی رضا کی ضرورت نہیں بلکہ اگر وہ انکار بھی کرے جب بھی ہو جائے گی بلکہ اگر شوہر نے طلاق دینے کے بعد کہہ دیا ہو کہ میں نے رجعت باطل کردی یا مجھے رجعت کا اختیار نہیں جب بھی رجعت کر سکتا ہے۔(7) (درمختار)
مسئلہ ۱۷: عورت کا مہر مؤجل بطلاق تھا (یعنی طلاق ہونے کے بعد مہر کا مطالبہ کریگی) ایسی صورت میں اگر شوہر نے طلاق رجعی دی تواب میعاد پوری ہوگئی، عورت عدّت کے اندر مہر کا مطالبہ کرسکتی ہے اور رجعت کرلینے سے مطالبہ ساقط نہ ہوگا۔ (8)(درمختار)
مسئلہ ۱۸: زوج و زوجہ(9) دونوں کہتے ہیں کہ عدّت پوری ہوگئی مگر رجعت میں اختلاف ہے ایک کہتا ہے کہ رجعت