عورت کو بھی اس کی خبر کردے کہ عدّت کے بعد کسی اور سے نکاح نہ کرلے اور اگر کرلیا تو تفریق کردی جائے اگرچہ دخول کر چکا ہو کہ یہ نکاح نہ ہوا۔ اور اگر قول سے رجعت کی مگر گواہ نہ کيے یا گواہ بھی کيے مگر عورت کو خبر نہ کی تو مکروہ خلافِ سنت ہے مگر رجعت ہو جائے گی۔ اور اگر فعل سے رجعت کی مثلاً اُس سے وطی کی یا شہوت کے ساتھ بوسہ لیا یا اُس کی شرمگاہ کی طرف نظر کی تو رجعت ہو گئی مگر مکروہ ہے۔ اُسے چاہيے کہ پھر گواہوں کے سامنے رجعت کے الفاظ کہے۔(1) (جوہرہ)
مسئلہ ۷: شوہر نے رجعت کرلی مگر عورت کو خبر نہ کی اُس نے عدّت پوری کرکے کسی سے نکاح کرلیا اور رجعت ثابت ہوجائے تو تفریق کردی جائے گی اگرچہ دوسر ا دخول بھی کر چکا ہو۔(2) (درمختار)
مسئلہ ۸: رجعت کے الفاظ یہ ہیں میں نے تجھ سے رجعت کی یا اپنی زوجہ سے رجعت کی یا تجھ کو واپس لیا۔ یا روک لیا یہ سب صریح الفاظ ہیں کہ اِن میں بِلا نیت بھی رجعت ہو جائیگی۔ یا کہا تو میرے نزدیک ویسی ہی ہے جیسی تھی یا تو میری عورت ہے تو اگر بہ نیت رجعت یہ الفاظ کہے ہوگئی ورنہ نہیں اور نکاح کے الفاظ سے بھی رجعت ہو جاتی ہے۔ (3)(عالمگیری وغیرہ)
مسئلہ ۹: مطلقہ سے کہا تجھ سے ہزار روپے مہر پر میں نے رجعت کی، اگر عورت نے قبول کیا تو ہو گئی، ورنہ نہیں۔ (4)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۰: جس فعل سے حرمت مصاہرت ہوتی ہے اُس سے رجعت ہوجائیگی مثلاً وطی کرنا یا شہوت کے ساتھ مونھ یا رخسار یا ٹھوڑی یا پیشانی یا سر کا بوسہ لینا یا بلاحائل (5) بدن کو شہوت کے ساتھ چھونا یا حائل ہو تو بدن کی گرمی محسوس ہو یا فرج داخل کی طرف شہوت کے ساتھ نظر کرنا اور اگر یہ افعال شہوت کے ساتھ نہ ہوں تو رجعت نہ ہوگی اور شہوت کے ساتھ بلا قصد رجعت (6) ہوں جب بھی رجعت ہو جائے گی۔ اور بغیر شہوت بوسہ لینا یا چھونا مکروہ ہے جبکہ رجعت کا ارادہ نہ ہو۔ یوہیں اُسے برہنہ(7) دیکھنا بھی مکروہ ہے۔(8) (عالمگیری، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۱: عورت نے مرد کا بوسہ لیا یا چھوا خواہ مرد نے عورت کو اس کی قدرت دی تھی یا غفلت میں یا زبردستی عورت