جب عورتوں کو طلاق دو اور اُن کی عدّت پوری ہونے کے قریب پہنچ جائے تو اُن کو خوبی کےساتھ روک سکتے ہو۔
حدیث ۱: حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ عنہما نے اپنی زوجہ کو طلاق دی تھی حضور اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو جب اسکی خبر پہنچی تو حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے ارشاد فرمايا: کہ ''اُن کو حکم کرو کہ رجعت کر لیں۔'' (2)
مسئلہ ۱: رجعت کے یہ معنیٰ ہیں کہ جس عورت کو رجعی طلاق دی ہو، عدّت کے اندر اُسے اُسی پہلے نکاح پر باقی رکھنا۔(3)
مسئلہ ۲: رجعت اُسی عورت سے ہو سکتی ہے جس سے وطی کی ہو، اگر خلوت صحیحہ ہوئی مگر جماع نہ ہوا تو نہیں ہوسکتی اگرچہ اُسے شہوت کے ساتھ چُھوا یا شہوت کے ساتھ فرجِ داخل (4)کی طرف نظر کی ہو۔ (5)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۳: شوہر دعویٰ کرتا ہے کہ یہ عورت میری مدخولہ ہے تو اگر خلوت ہوچکی ہے رجعت کرسکتا ہے ورنہ نہیں۔(6) (عالمگیری)
مسئلہ ۴: رجعت کو کسی شرط پر معلق کیا یا آئندہ زمانہ کی طرف مضاف کیا مثلاً اگر تو گھر میں گئی تو میرے نکاح میں واپس ہو جائے گی یا کل تو میرے نکاح میں واپس آجائے گی تو یہ رجعت نہ ہوئی اور اگر مذاق یا کھیل یا غلطی سے رجعت کے الفاظ کہے تو رجعت ہوگئی۔(7) (بحر)
مسئلہ ۵: کسی اور نے رجعت کے الفاظ کہے اور شوہر نے جائز کر دیا تو ہوگئی۔ (8)(ردالمحتار)
مسئلہ ۶: رجعت کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ کسی لفظ سے رجعت کرے اور رجعت پر دو عادل شخصوں کو گواہ کرے اور