Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ ہشتم (8)
169 - 282
    مسئلہ ۲۸: عورت نے شوہر مریض پر دعویٰ کیا کہ اُس نے اسے طلاق بائن دی اور شوہر انکار کرتا ہے قاضی نے شوہر کو حلف دیا اُس نے قسم کھالی پھر عورت نے بھی شوہر کے مرنے سے پہلے اُس کی تصدیق کی تو وارث ہوگی اور مرنے کے بعد تصدیق کی تو نہیں جبکہ یہ دعویٰ ہو کہ صحت میں طلاق بائن دی تھی۔(1) (درمختار، ردالمحتار) 

    مسئلہ ۲۹: شوہر کے مرنے کے بعد عورت کہتی ہے کہ اُس نے مجھے مرض الموت میں بائن طلاق دی تھی اور میں عدّت میں تھی کہ مرگیا لہٰذا مجھے میراث ملنی چاہيے اور ورثہ کہتے ہیں کہ صحت میں طلاق دی تھی لہٰذا نہ ملنی چاہیے تو قول عورت کا معتبر ہے۔(2) (عالمگيری) 

    مسئلہ ۳۰: عورت کو مرض الموت میں تین طلاقیں دیں اور مر گیا عورت کہتی ہے میری عدّت پوری نہیں ہوئی تو قسم کے ساتھ اُس کا قول معتبر ہے اگرچہ زمانہ دراز ہوگیا ہو اگر قسم کھالے گی وارث ہوگی قسم سے انکار کرے گی تو نہیں اور اگر عورت نے ابھی کچھ نہیں کہا مگر اتنے زمانے کے بعد جس میں عدّت پوری ہوسکتی ہے اُس نے دوسرے سے نکاح کیا اب کہتی ہے کہ عدّت پوری نہیں ہوئی تو وارث نہ ہوگی اور وہ دوسرے ہی کی عورت ہے۔ اور اگر ابھی نکاح نہیں کیا ہے مگر کہتی ہے میں آئسہ ہوں تین مہینے کی عدّت پوری کی اور شوہرمرگیا اب دوسرے سے نکاح کیا اور عورت کے بچہ ہوا یا حیض آیا تو وارث ہوگی اور دوسرے سے جونکاح کیا ہے یہ نکاح نہیں ہوا۔(3) (عالمگيری) 

    مسئلہ ۳۱: کسی نے کہا پچھلی عورت جس سے نکاح کروں تو اُسے طلاق ہے اور ایک سے نکاح کرنے کے بعد دوسری سے مرض میں نکاح کیا اور شوہر مر گیا تو اس عورت کو نکاح کرتے ہی طلاق ہوگئی اور وارث نہ ہوگی۔(4) (درمختار)
رجعت کا بیان
    اﷲ عزوجل فرماتا ہے :
      (وَبُعُوۡلَتُہُنَّ اَحَقُّ بِرَدِّہِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ اِنْ اَرَادُوۡۤا اِصْلَاحًا ؕ  ) (5)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔ ''الدر المختار'' و''رد المحتار''،کتاب الطلاق، باب طلاق المریض،مطلب:حال فشوالطاعون...الخ،ج۵،ص۱۹. 

2۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الھنديۃ''،کتاب الطلاق، الباب الخامس في طلاق المریض، ج۱، ص۴۶۴. 

3۔۔۔۔۔۔ المرجع السابق،ص۴۶۴،۴۶۵. 

4۔۔۔۔۔۔'الدر المختار''، کتاب الطلاق،باب طلاق المریض ،ج۵،ص۲۴.

5۔۔۔۔۔۔پ ۲،البقرۃ: ۲۲۸.
Flag Counter