Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ ہشتم (8)
168 - 282
عورت بھی ہے تو اُسے تین ربع (1) ملیں گے اور اسے ایک ربع (2) اوراگر شوہر کے بیان کرنے اور مرنے سے پہلے اُن میں کی ایک مرگئی تو اب جو باقی ہے وہی مطلَّقہ سمجھی جائے گی اور میراث نہ پائے گی اور اگر ایک کے مرنے کے بعد شوہر یہ کہتا ہے کہ میں نے اُسی کو طلاق دی تھی تو شوہر اُس کا وارث نہ ہوگا مگر جو موجود ہے وہ مطلَّقہ سمجھی جائے گی اور اگر دونوں آگے پیچھے مریں اب یہ کہتا ہے کہ پہلے جو مری ہے اُسے طلاق دی تھی تو کسی کا وارث نہیں۔ اور اگر دونوں ایک ساتھ مریں مثلاً اُن پر دیوار ڈھ پڑی (3) یا دونوں ایک ساتھ ڈوب گئیں یا آگے پیچھے مریں مگر یہ نہیں معلوم کہ کون پہلے مری کون پیچھے ،تو ہر ایک کے مال میں جتنا شوہر کا حصہ ہوتا ہے اُس کا نصف نصف اسے ملے گا اور اس صورت میں کہ ایک ساتھ مریں یا معلوم نہیں کہ پہلے کون مری اس نے ایک کا مطلقہ ہونا معین کیا تو اس کے مال میں سے شوہر کو کچھ نہ ملے گا اور دوسری کے ترکہ میں سے نصف حق پائے گا۔(4) (عالمگیری) 

    مسئلہ ۲۶: صحت میں کسی کو طلاق کی تفویض کی اُس نے مرض کی حالت میں طلاق دی تو اگر اُسے طلاق کا مالک کردیا تھا تو عورت وارث نہ ہوگی اور اگر وکیل کیا تھا اور معزول کرنے پر قادر تھا تو وارث ہو گی۔ (5)(عالمگیری، درمختار) 

    مسئلہ ۲۷: عورت سے مرض میں کہا میں نے صحت میں تجھے طلاق دیدی تھی اور تیری عدّت بھی پوری ہوچکی عورت نے اس کی تصدیق کی پھر شوہر نے اقرار کیا کہ عورت کا مجھ پر اتنا دَین (6) ہے یا اُس کی فلاں شے مجھ پر ہے یا اُس کے ليے کچھ مال کی وصیت کی تو اُس اقرار و میراث یا وصیت و میراث میں جو کم ہے عورت وہ پائیگی اور اس بارے میں عِدّت وقت اقرار سے شروع ہوگی یعنی اب سے عدّت پوری ہونے تک کے درمیان میں شوہر مرا تو یہی اقل (7) پائے گی اور اگر عدّت گزرنے پر مرا تو جو کچھ اقرار کیا یا وصیت کی کل پائے گی۔ اور اگر صحت میں ایسا کہا تھا اور عورت نے تصدیق کرلی یا وہ مرض مرض الموت نہ تھا یعنی وہ بیماری جاتی رہی تو اقرار وغیرہ صحیح ہے اگرچہ عدّت میں مر گیا۔ اور اگر عورت نے تکذیب کی(8) اور شوہر اُسی مرض میں وقت اقرار سے عدّت میں مرگیا تو اقرار و وصیت صحیح نہیں اور اگر بعد عدّت مرا یا اُس مرض سے اچھا ہوگيا تھا اور عدّت میں مرا تو عورت وارث نہ ہوگی اور اقرار ووصیت صحیح ہیں۔ اور اگر مرض میں عورت کے کہنے سے طلاق دی پھر اقرار یا وصیت کی جب بھی وہی حکم ہے کہ دونوں میں جو کم ہے وہ پائے گی۔(9) (درمختار، ردالمحتار)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔چارحصوں میں سے تین حصے۔     2۔۔۔۔۔۔چارحصوں میں سے ایک حصہ ۔    3۔۔۔۔۔۔گر پڑی۔

4۔۔۔۔۔۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الطلاق،الباب الخامس فی طلاق المریض ،ج۱، ص۴۶۷ ۔ ۴۶۸.

5۔۔۔۔۔۔ المرجع السابق، ص۴۶۸ 

و''الدر المختار''، کتاب الطلاق،باب طلاق المریض ،ج۵،ص۱۵-۱۶. 

6۔۔۔۔۔۔قرض۔              7۔۔۔۔۔۔یعنی جوکم ہے وہ۔             8۔۔۔۔۔۔یعنی جھٹلایا۔ 

9۔۔۔۔۔۔ ''الدر المختار ورد المحتار''،کتاب الطلاق، باب طلاق المریض،مطلب:حال فشوالطاعون...الخ،ج۵، ص۱۷ ۔ ۱۹.
Flag Counter