وارث ہوگی۔(1) (خانیہ)
مسئلہ ۲۳: مسلمان مریض نے اپنی عورت کتابیہ سے کہا جب تو مسلمان ہو جائے تو تجھ کو تین طلاقیں ہیں وہ مسلمان ہوگئی اورشوہرعدت کے اندرمرگیاتووارث ہوگی اوراگرکہاکل تجھ کوتین طلاقیں ہیں اوروہ عورت آج ہی مسلمان ہوگئی تو وارث نہ ہوگی اور اگر مسلمان ہونے کے بعد طلاق دی تووارث ہوگی اگرچہ شوہر کو علم نہ ہو۔(2) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۴: مریض نے اپنی دو عورتوں سے کہا تم دونوں اپنے کو طلاق دے لو ہر ایک نے اپنے کو اورسَوت(3) کو آگے پیچھے طلاق دی تو پہلی ہی کے طلاق دینے سے دونوں مطلَّقہ ہوگئیں اور اس کے بعد دوسری کا طلاق دینا بیکار ہے اور دوسری وارث ہوگی پہلی نہیں اور اگر پہلی نے صرف سَوت کو طلاق دی اپنے کو نہیں یا ہر ایک نے دوسری کو طلاق دی اپنے کو نہ دی تو دونوں وارث ہونگی۔ اور اگر ہر ایک نے اپنے کو اور سَوت کو معاً (4)طلاق دی تو دونوں مطلَّقہ ہوگئیں اور وارث نہ ہوں گی اور اگر ایک نے اپنے کو طلاق دی اور دوسری نے بھی اسی کو طلاق دی تو یہی مطلقہ ہوگی۔ اور یہ وارث نہ ہوگی۔ اور اگر ایک نے سَوت کو طلاق دی پھر اس کے بعد دوسری نے خود اپنے ہی کو طلاق دی تو وارث ہوگی۔ یہ سب صورتیں اُس وقت ہیں کہ اُسی مجلس میں ایسا ہوا اور اگر مجلس بدلنے کے بعد ہر ایک نے اپنے کو اور سَوت کو معاًطلاق دی یا آگے پیچھے یا ہر ایک نے دوسری کو طلاق دی بہر حال دونوں وارث ہیں اور ہر ایک نے اپنے کو طلاق دی تو طلاق ہی نہ ہوئی خلاصہ یہ ہے کہ جس صورت میں عورت خود اپنے طلاق دینے سے مطلقہ ہوئی ہو تو وارث نہ ہوگی ورنہ ہوگی۔(5) (عالمگيری)
مسئلہ ۲۵: دو عورتیں مدخولہ ہیں شوہر نے صحت میں کہا تم دونوں میں سے ایک کو تین طلاقیں اور یہ بیان نہ کیا کہ کس کو پھر جب مریض ہوا تو بیان کیا کہ وہ مطلَّقہ فلاں عورت ہے تو یہ عورت میراث سے محروم نہ ہوگی اور اگر اس شخص کی ان دوکے علاوہ کوئی اور عورت بھی ہے تواس کے ليے نصف میراث ہے اور وہ عورت جس کا مطلَّقہ ہونا بیان کیا اگر شوہر سے پہلے مر گئی تو شوہر کا بیان صحیح مانا جائیگا اور دوسری جو باقی ہے میراث لے گی لہٰذا اگر کوئی تیسری عورت بھی ہے تو دونوں حق زوجیت میں برابر کی حقدار ہیں۔ اورا گر جس کا مطلَّقہ ہونا بیان کیا زندہ ہے اور دوسری شوہر کے پہلے مرگئی تو یہ نصف ہی کی حقدار ہے لہٰذا اگر کوئی اور