شرط کا پایا جانا دونوں حالت مرض میں ہیں یا اپنے کسی کام کرنے پر طلاق معلق کی مثلاً اگر میں یہ کام کروں تو میری عورت کو طلاق ہے اور تعلیق و شرط دونوں مرض میں ہیں یا تعلیق صحت میں ہو اور شرط کا پایا جانا مرض میں۔ یا عورت کے کسی کام کرنے پر معلق کی اور وہ کام ایسا ہے جس کا کرنا شرعاً یا طبعاً ضروری ہے مثلاً اگر تو کھائے گی یا نماز پڑھے گی اور تعلیق و شرط دونوں مرض میں ہوں یا صرف شرط تو اِن صورتوں میں عورت وارث ہوگی اور اگر فعل غیر یا کسی وقت کے آنے پر معلق کی اورتعلیق و شرط دونوں یا فقط تعلیق صحت میں ہو یا عورت کے فعل پر معلق کیا اور وہ فعل ایسا نہیں جس کا کرنا عورت کے ليے ضروری ہو تو ان صورتوں میں وارث نہیں۔(1) (درمختار)
مسئلہ ۱۹: صحت کی حالت میں عورت سے کہا اگر میں اور فلاں شخص چاہیں تو تجھ کو تین طلاقیں ہیں پھر شوہر مریض ہوگيا اور دونوں نے ایک ساتھ طلاق چاہی یا پہلے شوہر نے چاہی پھر اُس شخص نے تو عورت وارث نہ ہوگی اور اگر پہلے اُس شخص نے چاہی پھر شوہر نے تو وارث ہوگی۔ (2)(خانیہ) اور اگر مرض کی حالت میں کہا تھا تو بہر صورت وارث ہوگی۔ (3)(ردالمحتار)
مسئلہ ۲۰: مریض نے عورت مدخولہ کو طلاق بائن دی پھر اُس سے کہا اگر میں تجھ سے نکاح کروں تو تجھ پر تین طلاقیں اور عدّت کے اندر نکاح کرلیا تو طلاقیں پڑجائیں گی اور اب سے نئی عدّت ہوگی اور عدّت کے اندر شوہر مر جائے تو عورت وارث نہ ہوگی۔(4) (خانیہ)
مسئلہ ۲۱: مریض نے اپنی عورت سے جو کسی کی کنیز ہے یہ کہا کہ تجھ پر کل تین طلاقیں اور اُس کے مولیٰ نے کہا توکل آزاد ہے تودوسرے دن کی صبح چمکتے ہی طلاق و آزادی دونوں ایک ساتھ ہونگی اور عورت وارث نہ ہوگی۔ اور اگر مولیٰ نے پہلے کہا تھا پھر شوہر نے، جب بھی یہی حکم ہے ہاں اگر شوہر نے یوں کہا کہ جب تو آزاد ہو تو تجھ کو تین طلاقیں تو اب وارث ہوگی۔ اور اگر مولیٰ نے کہا توکل آزاد ہے اور شوہر نے کہا تجھے پر سوں طلاق ہے اگر شوہر کو مولیٰ کا کہنا معلوم تھا تو فاربالطلاق ہے ورنہ نہیں۔(5) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۲: عورت سے کہا جب میں بیمار ہوں تو تجھ پر طلاق شوہر بیمار ہوا تو طلاق ہوگئی اور عدّت میں مرگیا تو عورت